ماسکو: ولادیمیر پوtن خلیجی عرب رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے خدشات ایران تک پہنچائیں گے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کریملن نے منگل کے روز کہا کہ روسی صدر خطے میں حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر پوتن ’’کم از کم تناؤ میں معمولی کمی‘‘ لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تناظر میں خلیجی قیادت کے خدشات کو براہ راست تہران تک پہنچانا روس کی وسیع سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
سعودی ولی عہد اور امیر قطر سے رابطے
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب پوتن نے پیر کے روز سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان آل سعود سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تنازع جغرافیائی طور پر مزید پھیل سکتا ہے، جو پہلے ہی کئی عرب ممالک کو متاثر کر چکا ہے اور اس کے ممکنہ تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ کریملن کے مطابق محمد بن سلمان نے کہا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ روس کے دوستانہ تعلقات کے پیش نظر ماسکو اس وقت ایک مثبت اور استحکامی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی دوران پوتن نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے تنازع کے پھیلاؤ اور تیسرے ممالک کے اس میں شامل ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی، تاہم امید ظاہر کی کہ ایران کی جوابی کارروائیاں ہمسایہ ممالک کے شہریوں اور شہری تنصیبات، خصوصاً سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔
توانائی تنصیبات پر حملے اور عالمی منڈیوں پر اثرات
کریملن کا مؤقف ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کی جڑ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں ہیں، جنہیں اس نے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ حالیہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی سب سے بڑی گھریلو آئل ریفائنری عارضی طور پر بند ہو گئی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل انڈسٹریل مرکز میں آگ بھڑک اٹھی۔ قطر کے راس لفان توانائی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ایل این جی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ علاقائی فضائی حدود بھی متاثر ہوئیں، دبئی اور ابوظہبی میں پروازوں کی آمد و رفت معطل رہی، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چوتھے روز بھی کشیدگی برقرار
مشرق وسطیٰ میں تنازع چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ قیادت کے ارکان ہلاک ہوئے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ اس کے ردِعمل میں تہران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے پیر کے روز خلیج فارس میں امریکہ کے قریبی اتحادیوں، بشمول سعودی عرب اور قطر، کی توانائی تنصیبات پر بھی حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…