منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ملاقات کے طویل ہونے کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں بلکہ ترجمے میں لگنے والا وقت تھا۔ ان کے مطابق صدر شی کے دورے کو کامیاب اور مثبت بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اختلافات کے باوجود رابطہ ضروری
روبیو نے کہا کہ امریکہ اور چین دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں، اس لیے شدید اختلافات کے باوجود رابطہ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کئی اہم معاملات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو اس انداز میں سنبھالنا ضروری ہے کہ صورتحال کبھی قابو سے باہر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں ہونے والی سربراہی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے حکام ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں گے جہاں تعاون ممکن ہو، تاکہ عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
تائیوان اور جنوبی بحیرۂ چین پر مؤقف
تائیوان کے معاملے پر روبیو نے کہا کہ واشنگٹن نے جزیرے کے اطراف چین کی فوجی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور یہ مسئلہ ہر ملاقات میں زیر بحث آتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کی حمایت جاری رکھے گا اور فلپائن سمیت اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔
ایران اور آبنائے ہرمز پر چین کا رویہ
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر کسی بھی قسم کی پابندی کے خلاف چین کا مؤقف تعمیری رہا ہے۔ ان کے مطابق چین نہ تو ایران کی ممکنہ کارروائیوں کا حامی ہے اور نہ ہی وہاں ٹول یا جہاز رانی پر پابندی کی حمایت کرتا ہے۔
فینٹینائل اور بھارت سے متعلق گفتگو
روبیو نے بتایا کہ فینٹینائل کی اسمگلنگ روکنے کے معاملے میں امریکہ اور چین کے درمیان کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملاقات کے دوران امریکی ٹیرف یا جنیرک ادویات کی درآمد کا معاملہ نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق امریکہ اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور مختلف سطحوں پر مسلسل رابطہ برقرار ہے۔
امریکہ-چین تعلقات کا اہم موڑ
روبیو نے کہا کہ عالمی معیشت پر امریکہ اور چین کے گہرے اثرات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ منقطع ہونا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ تائیوان، برآمدی پابندیوں اور جنوبی بحیرۂ چین میں فوجی سرگرمیوں کے باعث دونوں طاقتوں کے تعلقات کشیدہ ہیں، تاہم ستمبر میں شی جن پنگ کا مجوزہ دورۂ واشنگٹن دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی ملاقات ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…