بین الاقوامی

Police action against Imran Khan’s sisters: عمران خان کی بہنوں پر پولیس کارروائی سے ہنگامہ، نورین نیازی نے بیان کیے دل دہلا دینے والے منظر

اسلام آباد: راولپنڈی کی ادیالہ جیل کے باہر 18-19 نومبر کی رات سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس نے ملک کے ایک بڑے طبقے میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ نہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس پولیس کارروائی کو ناقابلِ برداشت اور شرمناک قرار دیا ہے۔

اسے غور کرنے لائق نہیں بلکہ شرمندہ کرنے لائق واقعہ بتایا ہے۔ عمران خان کی بہنیں—علیمہ، نورین اور عظمیٰ—جو ایک بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جب پولیس کے ہاتھوں گھسیٹی جاتی نظر آئیں تو سوال صرف یہ نہیں اٹھا کہ “کیا ہوا؟” بلکہ یہ بھی کہ “پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟”

پی ٹی آئی نے کچھ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کیں جن میں دکھایا گیا کہ موقعے کی لائٹیں بند تھیں اور تینوں بہنیں زمین پر بیٹھ کر اپنے بھائی سے ملاقات کی درخواست کر رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ان پر پانی بھی چھوڑا گیا۔ پھر تینوں خواتین کو ایسے کھینچا گیا، دھکا دیا گیا اور اٹھا کر لے جایا گیا، جیسے وہ ملک کی سب سے خطرناک بھگوڑی ہوں۔ علیمہ خان بولتی سنائی دے رہی ہیں، ’’وہ ہمیں مٹی میں گرا کر گھسیٹ رہے تھے۔ یہ صرف کارروائی نہیں تھی—یہ پیغام تھا، عمران خان کی حمایت کرو گے تو تمہاری جگہ زمین پر ہے۔‘‘

’’یہ حفاظت نہیں، اقتدار کا ننگا مظاہرہ ہے‘‘

سب سے دل دہلا دینے والا منظر نورین نیازی کا تھا—جہان وہ زمین پر پڑی تھیں اور پولیس انہیں کھینچ رہی تھی۔ نورین نے کہا، ’’میری چادر کھینچی گئی۔ مجھے بال پکڑ کر گھسیٹا گیا۔ عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والی حکومت کو کس اخلاقی حق سے حکمرانی حاصل ہے؟‘‘ وہیں،عظمیٰ نے اس کارروائی کو سیدھا ’دہشت گردی‘ قرار دیا۔ وہ بولیں، ’’انہوں نے اندھیرا کرکے ہمیں ڈرانے کوشش کی۔ کیا یہ جیل کے باہر پرامن بیٹھی تین عورتوں سے نمٹنے کا طریقہ ہے؟ یہ حفاظت نہیں، اقتدار کا ننگا مظاہرہ ہے۔‘‘

گھنٹوں نامعلوم جگہ پر روکے رکھا گیا

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اپریل 2025 میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آئے تھے۔ 8، 14 اور 17 اپریل کو بھی پولیس نے جیل کے باہر ان کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا—کبھی شادی ہال میں لے جایا گیا، کبھی موٹروے کی طرف، اور کبھی گھنٹوں نامعلوم جگہ پر روکے رکھا گیا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ فیملی کو ملاقاتیں روک کر اور اس طرح کی کارروائیاں کرکے حکومت یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ عمران خان “تنہا” ہیں اور ان کا خاندان بھی کسی تحفظ یا احترام کا مستحق نہیں۔

سابق صدر عارف علوی نے ایکس پر کہا، ’’یہ آج کا پاکستان ہے—جہاں عورتوں کے برقع کی حرمت پامال کی جاتی ہے۔ ان بہنوں کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ اپنے بھائی سے ملنے آئی تھیں۔‘‘

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے بھی لکھا، ‘‘ہر نئے جرم کے ساتھ ظلم کرنے والے مزید بےخوف ہو جاتے ہیں۔ اغوا، گرفتاریاں، چھاپے، فوجی عدالتیں، دھاندلی والے انتخابات، ترامیم—یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ جب وہ جوابدہی سے بچ نکلتے ہیں، ان کی طاقت اور بڑھ جاتی ہے، اور جب بیوروکریسی، میڈیا اور عدلیہ ان کا ساتھ دیتی ہے، تو ان کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔‘‘

سیاسی جماعت مجلس وحدت المسلمین کے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا، ’’یہ کون سا پاکستان ہے؟ یہ کیسی انسانیت ہے؟ عمران خان کی بہنوں کے خلاف پولیس کارروائی، انسانیت کے منہ پر طمانچہ اور طاقت کے غلط استعمال کی مثال ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عورتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں، وہ نہ تو مسلمان کہلانے کے لائق ہیں اور نہ ہی پاکستانی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Amit shah Birthday Wishes: ’سر، آپ ہر بار یاد رکھتے ہیں‘، امت شاہ نے ہماچل پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ مکیش اگنی ہوتری کو کیوں کیا فون؟

مرکزی وزیر داخلہ نے یوم پیدائش پر فون کرکے دی مبارک باد دی، دونوں لیڈروں…

22 minutes ago

LEARN FROM THE WORLD BUT DESIGN FOR INDIA: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے ڈیزائن کریں“

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…

2 hours ago