بین الاقوامی

Piyush Goyal on US Sanctions: صرف بھارت ہی کیوں نشانے پر ہے؟‘ پیوش گوئل نے روسی تیل کمپنیوں  پرعائد پابندیوں سے متعلق برطانیہ سے ناراضگی کا کیا اظہار

ہندوستان کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے سوال کیا کہ کیوں مغربی ممالک روسی تیل کی خریداری کے لیے ہندوستان کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں، جب کہ بہت سے یورپی ممالک خود روس کے تیل پر امریکہ سے رعایت کے خواہاں ہیں۔ برلن گلوبل ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ جرمنی مراعات کا خواہاں ہے، جب کہ برطانیہ  کو پہلے ہی یہ چھوٹ مل چکی ہے  ۔
روس کی Rosneft کے زیر کنٹرول انڈیا کی Nayara Energy، روس کی ان دو بڑی تیل کمپنیوں میں سے ایک ہے، جن پر امریکہ نے پابندیاں عائد کی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجی جارحیت کو روکنے کے لیے ماسکو پر دباؤ بڑھائے گی۔

پیوش گوئل نے ناراضگی کا کیا اظہار

برلن گلوبل ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے  پیوش گوئل نے پوچھا کہ Rosneft اور Lukoil پر نئی امریکی پابندیوں کے لیے ہندوستان کو  ہی کیوں ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جب کہ جرمنی اور برطانیہ نے اپنی Rosneft کے ذیلی اداروں کے لیے چھوٹ مانگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘برطانیہ کو شاید پہلے ہی امریکہ سے تیل خریدنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔’

بھارت کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

برائنٹ نے کہا کہ مسئلہ روزنیفٹ پر عائد حالیہ پابندیوں کا تھا اور یہ کہ برطانیہ نے جرمنی کے ساتھ اپنے مسائل حل کر لیے ہیں اور امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ گوئل نے ان سے پوچھا کہ پھر ہندوستان کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
برطانوی وزیر نے کیا کہا؟

برطانوی وزیر تجارت نے جواب دیا کہ جرمن مسئلہ روزنیفٹ کی ایک مخصوص ذیلی کمپنی سے متعلق ہے۔ پیوش گوئل نے نشاندہی کی کہ Rosneft کی بھارت میں ایک ذیلی کمپنی بھی ہے، اس پر کائل نے جواب دیا، “آ پ ہم سے بات کریں۔ میرا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکا نے یوکرین میں جنگ روکنے کے لیے روسی تیل کمپنی  روزنیفٹ اور لوکوئل پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس پر روس کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Bhartiya Patrakarita Mahotsav: بھارت ایکسپریس کی اہم شراکت سے اندور میں صحافت کا مہاکمبھ اختتام پذیر

اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…

41 minutes ago

Adani Group: اڈانی گروپ اور کچھ یونیورسٹی نے گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس کا کیا آغاز، ہر سال 10 ہزار سے زائد طلبہ کو ملے گی تربیت

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…

2 hours ago