بین الاقوامی

Petrol-Diesel Price: کیا کم ہونے والی ہیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں؟ ٹرمپ کے ایک اعلان سے خام تیل ہوگیا سستا

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں سے جاری فوجی کشیدگی کے بعد اب حالات کسی حد تک معمول پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی کا اثر پیر کے روز عالمی تیل منڈی میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے فی الحال مزید فوجی کارروائی روکنے کے اشارے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ کاروبار کے دوران اس کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی اہم سطح سے بھی نیچے آ گئی۔

سفارتی کوششوں میں تیزی

رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے فی الحال فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ امریکی سفیر نے بھی کہا کہ مزید حملے روکنے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس اعلان کے بعد بازار میں یہ امید مضبوط ہوئی کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی بتدریج کم ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی سپلائی پر منڈلاتے خدشات بھی کم ہوں گے۔

آبنائے ہرمز پر سب کی نظریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔ اگر یہاں بحری آمدورفت معمول کے مطابق بحال ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم شپنگ ڈیٹا کمپنی Kpler کے مطابق، اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اب بھی معمول سے کافی کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شپنگ کمپنیاں سکیورٹی کے معاملے میں ابھی بھی محتاط ہیں۔

کیا بھارت میں پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے؟

پیر کے ابتدائی کاروبار میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 4.89 ڈالر (5.05 فیصد) گر کر 91.89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ کچھ وقت کے لیے قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے چلی گئی، جس کے بعد بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی پر بحث شروع ہو گئی۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ بحیرۂ احمر میں حوثی باغیوں کی سرگرمیاں اب بھی عالمی تیل سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث منڈی مکمل طور پر پُرسکون نہیں ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل کم ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔تاہم اگر صورتحال دوبارہ خراب ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ فی الحال سرمایہ کاروں کی نظریں مغربی ایشیا کی تازہ پیش رفت اور سمندری تجارتی راستوں کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

2 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

2 hours ago