بین الاقوامی

Engineer Mirza reveals reality of Imran Khan’s jail life: ’’ادیالہ جیل میں ’انتہائی مایوس‘ ہیں عمران خان…‘‘، پاکستان کے مذہبی رہنما محمد علی مرزا کا دعویٰ

اسلام آباد: پاکستان کے معروف مذہبی رہنما محمد علی مرزا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان ادیالہ جیل میں انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ محمد علی مرزا حال ہی میں ایک ہائی پروفائل توہینِ مذہب کے مقدمے میں راولپنڈی کی ادیالہ جیل میں قید تھے، جہاں سے انہیں ضمانت مل چکی ہے۔

مرزا نے عمران سے متعلق کیے کئی انکشافات

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران محمد علی مرزا نے عمران خان کے جیل میں رویّے اور روزمرہ کے معمولات سے متعلق کئی انکشافات کیے۔ ان کے مطابق، ستمبر 2023 سے ادیالہ جیل میں قید عمران خان بیرونی دنیا کی خبروں سے باخبر رہتے ہیں اور ان کے کمرے میں دو اخبارات اور ایک ٹی وی کی سہولت موجود ہے۔

عمران خان کا مایوس ہونا غیر معمولی بات نہیں

مرزا کے مطابق، طویل عرصے سے جیل میں قید رہنے کے باعث عمران خان کا ’انتہائی مایوس‘ ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کو مجموعی طور پر چھ بیرکیں الاٹ کی گئی ہیں، جن میں سے پانچ ان کے ذاتی استعمال کے لیے ہیں جبکہ ایک بیرک ان کے اٹینڈنٹ کے لیے مختص ہے۔

عمران خان کی قید کی صورتحال پر بحث ہوئی تیز

ان بیانات کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر عمران خان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات اور ان کی قید کی صورتحال پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ معروف پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔

محمد علی مرزا کو لاہور ہائی کورٹ سے ملی ضمانت

واضح رہے کہ محمد علی مرزا کو جہلم میں درج ایک توہینِ مذہب کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے 3 دسمبر 2025 کو ضمانت دی تھی۔ جسٹس صداقت علی خان نے انہیں پانچ، پانچ لاکھ پاکستانی روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے سینیٹ کے چیئرمین کو لکھا تھا خط

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

سینیٹرز کو قیدی کی صورتحال کا جائزہ لینے کا حق

پی ٹی آئی کے خط میں کہا گیا تھا کہ ’’سینیٹرز کو کسی بھی قیدی، بالخصوص ایک سابق وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے منتخب رکن کی حراستی صورتحال کا جائزہ لینے کا آئینی حق حاصل ہے۔” خط میں عمران خان کی مبینہ غیر قانونی تنہائی قید اور بشریٰ بی بی کے ساتھ سلوک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

یو این کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ کی اپیل

اس سے قبل دسمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز نے بھی پاکستان حکومت سے عمران خان کی حراست کی ’غیر انسانی اور توہین آمیز‘ صورتحال پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ حالات تشدد یا دیگر غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago