پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان۔
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم جیل انتظامیہ کو دیا گیا ہے۔ عدالت نے منگل کے روز سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عمران خان کو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید
کرکٹر سے سیاست دان بننے والے 73 سالہ عمران خان اور ان کی اہلیہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ دونوں بدعنوانی اور اس سے متعلق دیگر معاملات میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پاکستانی روزنامہ ڈان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے جسٹس خادم حسین سومرو نے یہ فیصلہ سنایا۔ انہوں نے خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھے جانے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا۔
عمران خان کے بیٹوں سے فون پر بات کی اجازت
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ عمران خان کے اہل خانہ کو جیل کے ضابطوں کے مطابق ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ حکام کو عمران خان اور ان کے بیٹوں کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو کا انتظام کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ آئی ایچ سی نے اڈیالہ جیل کے حکام کو ہدایت دی کہ عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ انہیں جیل کے قوانین کے مطابق طبی سہولیات بھی دستیاب ہوں۔
15 دن میں تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عدالت کی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور 15 دن کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جسٹس سومرو نے اس سے قبل 6 اگست کو عمران خان کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے الگ الگ دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ان درخواستوں میں قیدِ تنہائی میں رکھے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں قید
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں سزا سنائے جانے کے بعد جیل بھیجا گیا تھا۔ عمران خان اور ان کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ مسلسل اس فیصلے کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتی رہی ہے۔ ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کا الزام ہے کہ جیل انتظامیہ نے اہل خانہ سے ان کی ملاقات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات بھی نہیں مل پا رہی ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے ان الزامات کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے۔
جیل انتظامیہ نے قیدِ تنہائی کے الزام کی وضاحت کی
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو 24 گھنٹے ایک ہی سیل میں بند نہیں رکھا جاتا تھا۔ انہیں 7 سیل پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں جانے کی سہولت حاصل تھی، جہاں وہ دن کے وقت گھوم پھر سکتے تھے۔
بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہی بشریٰ بی بی
دوسری جانب عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بدعنوانی سے متعلق ایک معاملے میں سزا سنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ 31 جنوری 2024 کو جیل بھیجا گیا تھا۔ تقریباً 9 ماہ جیل میں رہنے کے بعد انہیں اسی سال 24 اکتوبر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد ایک دوسرے معاملے میں انہیں 17 جنوری 2025 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ بدعنوانی سے متعلق کچھ دیگر معاملات میں انہیں سزا سنائی گئی اور اس کے بعد سے وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ جیل حکام نے عمران خان کی طرح بشریٰ بی بی کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر الگ رکھنے کی بات کہی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…