اسلام آباد: پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں اتوار کے روز ریلوے ٹریک کے قریب ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں کئی افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق یہ شٹل ٹرین کوئٹہ کینٹ سے ریلوے اسٹیشن کی جانب جا رہی تھی کہ صبح تقریباً 8 بجے چمن پھاٹک کے قریب اسے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق دھماکہ چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا۔
بی ایل اے نے لی ذمہ داری
دھماکے کے فوراً بعد کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ’’فدائین‘‘ یعنی خودکش حملہ تھا، جس کا ہدف پاکستانی فوجی اہلکار تھے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی خودکش یونٹ ’’مجید بریگیڈ‘‘ نے ایک ’’انتہائی منظم‘‘ کارروائی انجام دی۔ بی ایل اے کے مطابق حملے میں اس ٹرین کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے جا رہی تھی۔
تنظیم نے کہا، “آج (24 مئی) صبح بلوچ لبریشن آرمی کی فدائین یونٹ مجید بریگیڈ نے کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کو ایک انتہائی منظم فدائین حملے میں نشانہ بنایا۔ بلوچ لبریشن آرمی اس کارروائی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔” تنظیم نے مزید کہا کہ حملے کی تفصیلات اور جانی و مالی نقصان سے متعلق مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
کئی ڈبے پٹری سے اترے
اگرچہ حکومت اور مقامی میڈیا نے دھماکے کی تصدیق کی ہے، پھر بھی اسے باضابطہ طور پر خودکش حملہ قرار نہیں دیا گیا۔ پاکستان ریلویز نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور امدادی ٹرین موقع پر روانہ کر دی گئی ہے۔ ڈاؤن کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انجن سمیت تین ڈبے پٹری سے اتر گئے جبکہ دو کوچز پلٹ گئیں۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
وزیر ریلوے نے کی مذمت
پاکستان کے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گرد کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس حملے کا الزام بھی پڑوسی ملک پر عائد کیا۔ حالانکہ، کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
جعفر ایکسپریس کو روکا گیا
ادھر جیو نیوز نے ریلوے حکام کے حوالے سے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے کہا کہ دھماکے کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جائے وقوعہ کے قریب جمع نہ ہوں تاکہ امدادی ٹیمیں بغیر کسی رکاوٹ کے ریسکیو اور ریلیف کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
بھارت ایکسپریس۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لڑکیوں کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی۔ میرا خیال…
ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…
گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…
صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…