US-Iran Conflict: صرف 72 گھنٹوں میں پورا بدل گیا منظرنامہ: امریکہ۔ایران جنگ دوبارہ بھڑکنے سے تیل کی قیمتوں میں آگ، کتنی ہوا اصافہ؟

حیران کن بات یہ ہے کہ صرف تین روز قبل تک خام تیل کی قیمتیں مسلسل گر رہی تھیں، لیکن اب وہ تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اس اچانک تبدیلی نے بھارت سمیت ان تمام ترقی پذیر ممالک کی تشویش بڑھا دی ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے 70 فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتے ہیں۔

خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

تقریباً 72 گھنٹے پہلے تک عالمی منڈی کے حالات معمول پر تھے اور خلیجی خام تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی تھی۔ ماہرین اور بڑی بروکریج کمپنیوں کو امید تھی کہ قیمتیں مزید کم ہوں گی، لیکن بدھ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کی منظوری کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت ایک ہی دن میں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 80 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئی، جبکہ دونوں بڑے عالمی خام تیل بینچ مارکس گزشتہ ڈھائی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

6 جولائی کے بعد فی بیرل 9 ڈالر سے زائد اضافہ

اس وقت برینٹ کروڈ تقریباً 79 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل ایک دن پہلے 76 ڈالر تک پہنچنے کے بعد تقریباً 74.48 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اگر 6 جولائی سے موازنہ کیا جائے تو برینٹ کروڈ کی قیمت میں فی بیرل 9 ڈالر سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے عبوری معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں میں خوف بڑھ گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

کیا بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوگا؟

اس عالمی بحران کا براہِ راست اثر بھارتی عوام پر پڑ سکتا ہے۔ چند روز قبل تک خام تیل سستا ہونے کے باعث ماہرین کا اندازہ تھا کہ اگست کے دوسرے نصف میں حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2 سے 3 روپے فی لیٹر تک کمی کر سکتی ہے، لیکن موجودہ جغرافیائی کشیدگی کے بعد اس امکان کو تقریباً ختم سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ سرکاری آئل کمپنیوں نے جمعرات کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو آنے والے دنوں میں بھارت میں بھی ایندھن مہنگا ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔

درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ

خام تیل مہنگا ہونے سے بھارت کا درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے زیادہ ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

یعنی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ بھارت جیسے بڑے ترقی پذیر ممالک کی معیشت، مہنگائی اور اقتصادی بحالی کی رفتار کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

1 hour ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

2 hours ago

LEARN FROM THE WORLD BUT DESIGN FOR INDIA: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے ڈیزائن کریں“

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…

4 hours ago