بین الاقوامی

Trump-era politics a clown show: اوباما نے ٹرمپ دور کی سیاست کو ’’مسخرہ تماشا‘‘ قرار دیا، وائٹ ہاؤس کی بیان بازی پر شدید تنقید

واشنگٹن ڈی سی: سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دوسرے ٹرمپ دور حکومت کے تحت امریکی سیاست کو ’’مسخرہ تماشا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی حالیہ بیان بازی سے بیشتر امریکی گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ رپورٹ امریکی سیاسی خبر رساں ادارے دی ہِل نے شائع کی۔ اوباما نے یہ بیان ایک پوڈکاسٹ پروگرام میں گفتگو کے دوران دیا، جہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کی گئی ایک متنازع ویڈیو کا حوالہ دیا۔ اس ویڈیو میں اوباما اور سابق خاتون اول مشیل اوباما کو بندروں کے روپ میں دکھایا گیا تھا، جس پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی۔ وائٹ ہاؤس نے بعد میں اسے عملے کی ’’غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے ویڈیو ہٹا دی، تاہم ٹرمپ نے معافی مانگنے سے انکار کیا۔ اوباما نے کہا: ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت اس طرزعمل کو انتہائی تشویشناک سمجھتی ہے۔‘‘

سیاسی مکالمے کے زوال پر تشویش

گفتگو کے دوران عوامی مکالمے کے معیار میں کمی اور سیاسی شائستگی کے فقدان پر بھی بات کی گئی۔ اوباما نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر جاری بیان بازی کسی ’’مسخرہ تماشے‘‘ سے کم نہیں اور اب منصب کے وقار اور جمہوری روایات کا احترام کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پہلے لوگ عہدے کے احترام اور اخلاقی حدود کا خیال رکھتے تھے، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ احساس ختم ہو چکا ہے۔‘‘

ریپبلکن پالیسیوں اور امیگریشن ایجنڈے پر تنقید

سابق صدر نے کہا کہ کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ریپبلکن قیادت نے سوائے ایک بڑے مالیاتی بل کے کوئی واضح ادارہ جاتی اصلاح نہیں کی۔ ان کے مطابق امیگریشن ایجنڈے اور امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی، امیر طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی گئی اور اب پہلے سے موجود قوانین اور روایات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اوباما نے کہا: ’’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا کام زیادہ مشکل ہے، لیکن جمہوریت اسی احتیاط اور توازن کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘

جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی تاکید

اوباما نے ڈیموکریٹس کو خبردار کیا کہ وہ سیاسی مخالفت میں حد سے نہ گزریں اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں جس میں سچائی کی پروا نہ ہو اور جمہوری حدود کو پامال کیا جائے، تو ہم وہی کچھ کھو دیں گے جس کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر وہ بعض سخت اقدامات کر سکتے تھے، مگر ایسا کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہوتا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

3 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

3 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

4 hours ago