بین الاقوامی

China’s Eye on the Arctic: ہرمز نہیں، چین کی نظر آرکٹک پر، کیا ’آئس سلک روڈ‘ بھارت کے لیے بھی ضروری؟

دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں پر بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کے درمیان چین نے اب آرکٹک کے ناردرن سی روٹ (NSR) پر اپنی توجہ مزید بڑھا دی ہے۔ چینی کمپنی نے آرکٹک کے راستے چین سے یورپ تک باقاعدہ کنٹینر سروس شروع کی ہے، جسے ’آئس سلک روڈ‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ راستہ سازگار حالات میں چین اور یورپ کے درمیان سفر کا وقت روایتی سوئز کینال روٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف کر سکتا ہے۔

چین کے لیے آرکٹک کیوں اہم ہے؟

آرکٹک کا شمالی سمندری راستہ روس کے شمالی ساحل کے ساتھ تقریباً 5,500 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ موسم گرما میں برف پگھلنے کے باعث اس راستے پر جہاز رانی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ چین کے لیے اس راستے کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایشیا سے یورپ جانے والی تجارت کو روایتی سمندری راستوں کے مقابلے میں کم وقت لگ سکتا ہے۔چین نے پہلے ہی ’پولر سلک روڈ‘ کے تصور کو اپنی آرکٹک پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ روس کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیجنگ آرکٹک میں تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

بھارت کے لیے کیوں اہم ہے؟

بھارت کے لیے بھی ناردرن سی روٹ صرف ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور اقتصادی موقع بن سکتا ہے۔ بھارت کی روس کے ساتھ توانائی اور دفاعی شراکت داری کے پیش نظر آرکٹک کے راستے روسی وسائل اور ایشیائی منڈیوں کے درمیان رابطہ نئی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ روس اور بھارت پہلے ہی ناردرن سی روٹ کے حوالے سے تعاون کے امکانات پر بات کر چکے ہیں۔ بھارت آرکٹک میں تحقیق، موسمیاتی مطالعات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اپنی موجودگی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

لیکن ’آئس سلک روڈ‘ اتنا آسان بھی نہیں

اگرچہ آرکٹک راستہ مختصر ہے، لیکن اسے سوئز کینال کا فوری متبادل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ برفانی حالات، محدود بندرگاہی اور ریسکیو سہولیات، زیادہ انشورنس لاگت، موسم کی غیر یقینی صورتحال اور روس پر انحصار اس راستے کے بڑے چیلنج ہیں۔ ماہرین کے مطابق فی الحال آرکٹک روٹ عالمی تجارت کا ایک محدود راستہ ہے، تاہم مستقبل میں اس کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔

بھارت کو کیا کرنا چاہیے؟

بھارت کے لیے بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ چین کے ’آئس سلک روڈ‘ کا صرف تماشائی نہ بنے بلکہ روس کے ساتھ تعاون، آرکٹک ریسرچ، شپنگ انفراسٹرکچر اور ناردرن سی روٹ سے متعلق اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ اس سے بھارت کو مستقبل میں یورپ اور روس کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اضافی راستہ مل سکتا ہے اور عالمی سمندری گزرگاہوں پر کسی ایک روٹ پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یعنی آرکٹک کی دوڑ ابھی شروع ہوئی ہے، لیکن چین نے اس میں اپنی جگہ بنانا شروع کر دی ہے۔ بھارت کے لیے بھی وقت آ گیا ہے کہ وہ ’آئس سلک روڈ‘ کو صرف چین کی حکمت عملی کے طور پر نہیں بلکہ اپنے طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کے زاویے سے دیکھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PV Sindhu: پی وی سندھو کا بی ڈبلیو ایف فرنچ اوپن کا خطاب جیتنے کا خواب ادھورا، فائنل میں این سی ینگ نے ماری بازی

ہندوستان کی اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کو سپر 750 ٹورنامنٹ کے فائنل میں…

1 hour ago

Former Captain Harmanpreet Kaur: ہرمن پریت کور نے 15 ماہ بعد جڑا بین الاقوامی سنچری، زمبابوے کے خلاف 126 رنز کی شاندار اننگز

ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ہرمن پریت کور نے دوسرے ون ڈے میں…

1 hour ago

Bangladesh Port Contract: بنگلہ دیش نے بندرگاہ کا ٹھیکہ ڈنمارک کے مارسک گروپ کو دیا، چین کے پلان کو جھٹکا

چٹاگانگ بندرگاہ کے لادیا کنٹینر ٹرمینل کے لیے 30 سالہ معاہدہ، چین پر مکمل انحصار…

2 hours ago