تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزر نہیں سکتا۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ اختیار ایران کا “فطری حق” ہے اور اب اسے پوری شدت کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کے مطابق، اس وقت ایران کی افواج آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں پر مکمل طور پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی ملک دوست ہو یا دشمن، کسی بھی جہاز کو اس حساس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایران نے اس اختیار کو استعمال نہیں کیا، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر اب سخت نگرانی ضروری ہو گئی ہے۔ ایران کے مطابق، اس اہم سمندری گزرگاہ کی حفاظت اور کنٹرول اس کی خودمختاری کا حصہ ہے۔
عالمی برادری میں بے چینی اور سفارتی رابطے
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کئی ممالک اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اپنے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایران سے رابطہ کر رہے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ مختلف ممالک مسلسل پیغامات اور خطوط کے ذریعے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔
کشیدگی کے بعد سخت اقدامات
رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
نیا علاقائی نظام اور مستقبل کا وژن
اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک ’’نیا دور‘‘ شروع ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایک نیا قانونی اور انتظامی نظام متعارف کرایا جائے گا جو خطے کے ممالک کے لیے ترقی اور استحکام کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس خطے کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور مستقبل میں یہ علاقہ بیرونی طاقتوں کے اثر سے آزاد ہوگا۔ ان کے مطابق، آنے والے وقت میں خلیج فارس میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔ ایران کے ان بیانات اور اقدامات نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس صورتحال کے اثرات عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے…
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ضروری ہے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رام ناتھ کووند کو یوم پیدائش کی مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کی صدی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے کہا…
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھرتری ہری کی ’نیتی شتکم‘ کا ایک شعر شیئر کیا،…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں یکم اکتوبر کو نئی دہلی میں دونوں…