امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کی کوششیں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم اسی دوران اسرائیل کے ایک حالیہ اقدام نے اس امن کے عمل کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
اسرائیل کی ناپاک حرکت سے امن کی کوششوں میں خلل کا اندیشہ
مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کو روکا جائے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو کسی بھی امن معاہدے کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔ پیر کے روز اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کو اپنے خلاف یا شمالی اسرائیل کے شہریوں کے خلاف کسی بھی براہِ راست یا ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ اس نے واضح کیا کہ اس کی حکومت اور وزیرِ دفاع کی جانب سے فوج کو دی گئی ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج اس وقت تک موجود رہے گی جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں اور دیگر شہریوں کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھا جائے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مقصد؟
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان سے متعلق معاملات پر بات چیت میں ’’کافی مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایک ’’ڈی کنفلیکشن میکانزم‘‘ تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ تصادم کو وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔
جب وینس سے پوچھا گیا کہ آیا واشنگٹن جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کا خواہاں ہے، تو انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ ساتھ لبنان کی خودمختاری کے احترام کا بھی حامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔واضح رہے کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے فوج کو لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی تھی، تاہم حالیہ بیانات نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…