نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ابتدائی رپورٹس میں اس کی وجہ زلزلے کو بتایا گیا، تاہم بعد میں سامنے آنے والے سائنسی جائزوں میں صورت حال کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔
زلزلہ نہیں، گلیشیئر کا ٹوٹنا بنی بڑی وجہ
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر ماہرین کے ابتدائی جائزے کے مطابق اس قدرتی آفت کی بنیادی وجہ ہمالیائی گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے گرنا تھی۔ گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کا وسیع ملبہ نیچے وادی میں آیا، جس نے لھینڈے کھولا دریا کے بہاؤ کو اچانک متاثر کیا۔ اس کے بعد پانی اور ملبہ انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگا۔سیٹلائٹ تصاویر اور ابتدائی سائنسی اعداد و شمار سے اشارہ ملا ہے کہ تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی سے گلیشیئر کا تقریباً 0.2 مربع کلومیٹر حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے آ گرا۔ اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے اور پانی نے دریا کی وادی میں اچانک سیلاب کی شکل اختیار کر لی۔
پھر زلزلے کی بات کیوں سامنے آئی؟
سیلاب آنے کے وقت علاقے میں زلزلے جیسے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا کہ زلزلے نے پہاڑ یا گلیشیئر کو غیر مستحکم کیا ہوگا اور اس کے بعد برفانی تودہ گرا ہوگا۔
تاہم دستیاب سائنسی جائزوں کے مطابق جس ارتعاش کو ابتدائی طور پر زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ گلیشیئر اور برف و چٹان کے بڑے حصے کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا زلزلہ نما سگنل بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی فی الحال دستیاب شواہد سیلاب کی بنیادی وجہ زلزلے کے بجائے گلیشیئر کے ٹوٹنے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
دریا میں بنا عارضی بند، پھر ٹوٹ گیا
ماہرین کے مطابق گلیشیئر سے گرنے والی برف اور چٹانوں کے ملبے نے دریا کے راستے میں عارضی رکاوٹ پیدا کر دی۔ اس کے پیچھے پانی جمع ہوتا گیا اور جب یہ قدرتی رکاوٹ ٹوٹ گئی تو پانی انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب بہہ نکلا۔ اسی وجہ سے اس اچانک سیلاب کی رفتار اور تباہ کن صلاحیت عام سیلاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔
شدید بارش کے بغیر اتنا بڑا سیلاب کیسے آیا؟
اس واقعے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس علاقے میں تباہی ہوئی وہاں شدید بارش کو سیلاب کی براہ راست وجہ نہیں سمجھا جا رہا ہے۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف اور چٹانوں کا تودہ گرنا، دریا کے راستے میں عارضی رکاوٹ پیدا ہونا اور پھر اچانک پانی کا آزاد ہو جانا—ان تمام واقعات نے مل کر مختصر وقت میں بڑے پیمانے پر سیلاب پیدا کر دیا۔
ہمالیہ میں بڑھ رہا ہے خطرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیائی خطہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے، پرمافراسٹ کے کمزور ہونے اور پہاڑی ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مستقبل میں گلیشیئر ٹوٹنے، برفانی تودے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب جیسے واقعات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ تاہم کسی ایک واقعے کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…