بین الاقوامی

Nepal Election Result 2026: نیپال عام انتخابات نتائج: آر ایس پی کی تاریخی جیت، بالیندر شاہ کے سرنیم پر بحث تیز، وزیر اعظم مودی نے دی مبارکباد

کٹھمنڈو: نیپال کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس نے روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف نیپالی سیاست کے پرانے انداز کو بدلنے کے اشارے دیے ہیں بلکہ پورے خطے کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس تاریخی جیت پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی آر ایس پی کی قیادت کو فون کر کے مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے آر ایس پی کے چیئرمین ربی لامیچھانے اور پارٹی کے سینئر لیڈر بالیندر شاہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انہوں نے نیپال میں جمہوری عمل کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمسایہ ملک نیپال کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ مودی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والے دنوں میں بھارت اور نیپال کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔ نیپال کے ان انتخابات کی ایک اہم خصوصیت خواتین کی نمایاں کامیابی رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں اکثر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں خواتین کو صرف نمائشی طور پر میدان میں اتارتی ہیں یا انہیں ایسی نشستوں پر امیدوار بناتی ہیں جہاں کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ تاہم آر ایس پی نے اس روایت کو بدلتے ہوئے بڑی تعداد میں خواتین کو ٹکٹ دیا اور ان میں سے زیادہ تر امیدواروں نے کامیابی حاصل کر کے ایک نئی مثال قائم کی۔

پارٹی کی جانب سے میدان میں اتاری گئی 16 خواتین امیدواروں میں سے 13 نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خواتین امیدواروں نے کئی بڑے اور تجربہ کار سیاسی لیڈروں کو شکست دی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ نیپال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ نئی قیادت کو موقع دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان انتخابات کے بعد آر ایس پی کے سینئر لیڈر بالیندر شاہ بھی خاصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بالیندر شاہ ماضی میں ایک معروف ریپر اور فنکار کے طور پر پہچانے جاتے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور نوجوانوں کے درمیان اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کی سیاسی کامیابی نے نوجوان طبقے میں خاصا جوش و خروش پیدا کیا ہے۔

تاہم بالیندر شاہ کی مقبولیت کے ساتھ ہی ایک نیا تنازع بھی سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے سرنیم کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض پرانے سرکاری دستاویزات میں ان کا نام ’ساہ‘ درج ہے، جبکہ بعد میں اسے تبدیل کر کے ‘شاہ’ لکھا گیا۔ اسی معاملے کو لے کر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس پر سیاسی و سماجی بحث جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آر ایس پی کی کامیابی اور بالیندر شاہ جیسے نئے چہروں کا ابھرنا نیپال کی سیاست میں ایک بڑے بدلاؤ کی علامت ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

41 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

1 hour ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago