بین الاقوامی

NATO Intercepts Iranian Ballistic Missile: ترکی میں داخل ہونے والی ایرانی بیلسٹک میزائل کو نیٹو نے مار گرایا، ایران نے کہا-یہ تیسرے فریق کی سازش

انقرہ/استنبول: ترکی کی وزارت دفاع نے ایران کی جانب سے میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ جمعہ کے روز داغی گئی ایک بیلسٹک میزائل ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہو گئی تھی، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا گیا۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والی ایرانی بیلسٹک میزائل کو مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو کی فضائی اور میزائل دفاعی یونٹس نے ناکارہ بنا دیا۔

ترکی کی قومی سلامتی اولین ترجیح

وزارت دفاع نے کہا کہ ملک کی جانب آنے والے کسی بھی خطرے کے خلاف تمام ضروری اقدامات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اٹھائے جا رہے ہیں۔ علاقے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ترکی کی قومی سلامتی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزارت نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران سے ترکی کی جانب داغی گئی بیلسٹک میزائل کا یہ تیسرا واقعہ ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پیش آیا ہے۔

انجرلک ایئر بیس پر سائرن

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ترکی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جنوبی صوبے ادانہ میں واقع انجرلک ایئر بیس پر سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کچھ ویڈیوز میں بھی ایک میزائل کے آنے اور اس کے بعد دھماکے کی آواز سنائی دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

حملے پر ایران کا آیا ردعمل

دوسری جانب انقرہ میں ایران کے سفیر محمد حسن حبیب اللہ زادہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ واقعہ ہمارے لیے بھی ایک سوال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی کارروائی ہو سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ایئر ڈیفنس سسٹم کی تعیناتی

منگل کے روز ترکی کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ نیٹو کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کے دفاع میں مدد کے لیے فراہم کیا گیا پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم مشرقی صوبے ملاتیہ میں تعینات کر دیا گیا ہے اور اسے ایکٹیو کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اردوان کی جنگ روکنے کی اپیل

اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو رک جانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ پھیل کر پورے خطے کو اپنی زد میں لے لے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سفارت کاری اب بھی کشیدگی کم کرنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے اور ترکی اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

53 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

2 hours ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

2 hours ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

2 hours ago