بین الاقوامی

Municipal Elections Held in Gaza: غزہ میں 20 سال بعد پہلی بار بلدیاتی انتخابات، ہزاروں افراد نے ڈالے ووٹ

غزہ: غزہ پٹی میں ہفتہ کے روز تقریباً 20 سال بعد پہلی بار بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے، جن میں ہزاروں فلسطینیوں نے حصہ لیا۔ حالانکہ، انتخابی عمل وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح تک محدود رہا جبکہ مغربی کنارے میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے۔ فلسطینی مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے کھولے گئے۔ دیر البلاح میں ووٹنگ شام 5 بجے تک جاری رہی، جبکہ ویسٹ بینک میں یہ عمل شام 7 بجے تک چلتا رہا۔

ووٹروں اور امیدواروں کی تفصیلات

کمیشن کے مطابق فلسطینی علاقوں میں مجموعی طور پر 13 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے تقریباً 70 ہزار ووٹرز کا تعلق دیر البلاح سے ہے۔ ان انتخابات میں 183 بلدیاتی اداروں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے، جہاں 321 انتخابی فہرستیں میدان میں ہیں اور 3,773 امیدوار بلدیاتی نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی کونسلوں کے لیے 1,358 امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

خواتین کی شمولیت اور مقامی صورتحال

دیر البلاح میں چار انتخابی فہرستیں مدِ مقابل ہیں، جن میں ہر ایک میں 15 امیدوار شامل ہیں اور کم از کم چار خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق دیر البلاح کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ غزہ کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کو نسبتاً کم نقصان پہنچا ہے۔

انتخابی مہم اور عوامی جوش

ووٹنگ سے قبل شہر کی سڑکوں، بازاروں، بجلی کے کھمبوں، بے گھر افراد کے کیمپوں، کمیونٹی سینٹرز اور پناہ گزین خاندانوں کے علاقوں میں بھرپور انتخابی مہم دیکھنے کو ملی، جس سے عوامی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

عوام اور قیادت کا ردعمل

42 سالہ ووٹر سلمان العیدی نے بتایا کہ ووٹنگ کا عمل پُرامن رہا اور کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے مطابق کئی برس بعد بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا لوگوں کے لیے ایک خاص موقع ہے۔ دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس عمل کو ایک ’اہم قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے غزہ میں انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جانے چاہئیں۔

سیاسی اہمیت اور پس منظر

غزہ کے سیاسی تجزیہ کار ایاض عبدالجواد کے مطابق ان انتخابات کا مقصد طویل عرصے سے معطل مقامی جمہوری نظام کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں آخری بار بلدیاتی انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جس کے بعد 2007 میں حماس کے کنٹرول اور مسلسل تنازعات اور سیاسی تقسیم کے باعث انتخابات کا عمل تعطل کا شکار رہا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi On Digital India: ریڑھی والے سے لے کر کار شوروم تک، سب کے لیے ایک جیسا پیمنٹ سسٹم! پی ایم مودی نے دنیا کو دکھائی ہندوستان کی ڈیجیٹل طاقت

بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…

54 minutes ago

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

1 hour ago

Finance Minister Nirmala Sitharaman: ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟ کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کو کرے گی ختم ؟

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…

2 hours ago

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

3 hours ago