بین الاقوامی

Moscow-Beijing Alliance: روس اور چین نے عالمی بالادستی کے خاتمے اور نئی عالمی صف بندی کے قیام کے عزم کا کیا اعادہ، مغربی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے اشارے

بیجنگ: روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران عالمی بالادستی کے خاتمے اور ’’کثیر قطبی عالمی نظام‘‘ کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی بلندی تک پہنچ چکی ہے اور یہ جدید بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک مثال بن گئی ہے۔ یہ اہم سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

روس-چین تعلقات کے 25 برس، تعاون میں غیر معمولی وسعت

صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور چین کے تعلقات کے 25 برس مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’روس اور چین کے درمیان گزشتہ 25 برسوں میں تعاون بہت وسیع ہوا ہے۔ دونوں ممالک مسلسل رابطے میں ہیں اور مشترکہ منصوبوں و اقدامات پر سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔‘‘ پوتن کے مطابق اس اشتراک کا بنیادی مقصد روسی اور چینی عوام کی خوشحالی اور ترقی ہے۔

برکس بلاک عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے

روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں برکس کو اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بانی ارکان میں بھارت بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق برکس اتحاد اب دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی اور تقریباً 40 فیصد عالمی جی ڈی پی کی نمائندگی کرتا ہے، جسے مغربی غلبے کے متبادل عالمی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں ’’یکطرفہ پالیسیوں‘‘ اور ’’بالادستی کے رجحانات‘‘ میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے چین اور روس کو مزید مضبوط اسٹریٹجک تعاون کی ضرورت ہے۔

عالمی نظام ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف لوٹنے کا خطرہ

شی جن پنگ نے چین-روس دوستی اور تعاون کے معاہدے میں توسیع پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور دنیا دوبارہ ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف لوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہونے کے ناطے چین اور روس کو طویل مدتی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر اپنانا چاہیے تاکہ عالمی نظم و نسق کو زیادہ منصفانہ اور متوازن بنایا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ خلیجی خطہ جنگ اور امن کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن کے مطابق صدر پوتن کا یہ چین کا 25واں سرکاری دورہ ہے۔ وزارت نے دونوں رہنماؤں کے درمیان گہرے ذاتی تعلقات اور مضبوط اسٹریٹجک ہم آہنگی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ 2012 میں شی جن پنگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں رہنما درجنوں بار ملاقات کر چکے ہیں اور ایک دوسرے کو ’’قریبی دوست‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

39 minutes ago

Jio Platforms IPO: جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او 21 اکتوبر کو کھلے گا، فی شیئر قیمت 1,065 سے 1,119 روپے مقرر

ریلائنس انڈسٹریز کی ڈیجیٹل اور ٹیلی کام کمپنی کا آئی پی او 23 اکتوبر تک…

1 hour ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کے بھارتی دستے سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات، کھلاڑیوں نے پیش کی ’جرسی‘

جاپان کے آئچی ناگویا میں منعقدہ ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں اور معاون…

2 hours ago