بین الاقوامی

Iran US War: ایران کی سخت وارننگ، حملے نہ رکے تو امریکہ کو ایران کی جارحانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن رضائی

نئی  دہلی: ایران کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دن تک ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران جنگ کے ایک نئے، زیادہ جارحانہ اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جنگ اور مذاکرات کی بیک وقت پالیسی ختم ہو چکی ہے اور تہران ہر ممکن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کو دیے گئے انٹرویو میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ اگر امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران صرف جوابی حملوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اہلکار بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی سرحد کے اندر موجود امریکی تنصیبات محفوظ نہیں رہیں گی۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کو وسیع علاقائی یا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکہ نے صورت حال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران زمینی افواج سمیت اپنی مزید عسکری صلاحیتیں میدان میں اتارے گا، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔انہوں نے خلیجی ممالک کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ محسن رضائی نے خاص طور پر کویت، اردن، متحدہ عرب امارات اور قطر کے عوام سے کہا کہ وہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے میں تعاون کریں۔

ایرانی فوجی مشیر کا کہنا تھا کہ اب تک امریکہ کے حملوں کا ایران بھرپور جواب دے چکا ہے اور آنے والے دنوں میں ایرانی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کو مزید بڑے میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ایران کے خلاف کسی بھی زمینی فوجی مہم سے گریز کرنا چاہیے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے آبنائے ہرمز میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بحری جہاز کے خلاف کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے پرچم بردار اس جہاز نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ سے ضروری اجازت حاصل کیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی اور متعدد انتباہات کو بھی نظر انداز کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے جواب میں کی گئی ہیں، جب کہ ایران نے ان حملوں کے ردعمل میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Highlights India’s Growing Self-Reliance: جوہری توانائی سے سیمی کنڈکٹر تک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سائنسی ورثے کو آگے بڑھا رہا ہے ہندوستان: وزیر اعظم مودی

ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی…

8 hours ago

Jamia Students Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر احتجاج سے قبل سیکورٹی فورسیز کا مجمع، دفعہ 163 نافذ، کیمپس میں طلبا کے داخلے پر پابندی عائد

یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے…

9 hours ago