خبر رساں ایجنسی شِنہوا کی رپورٹ کے مطابق، شین بام نے جمعرات کو نیشنل پیلس میں اپنی روزانہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس حکمت عملی کا مقصد مچواکان کے ان علاقوں میں سکیورٹی مزید مضبوط کرنا ہے جہاں نیشنل گارڈ کی موجودگی نسبتاً کم تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت بھی جاری رکھی جائے گی۔
ایووکاڈو کی برآمد جلد بحال ہونے کی امید
برآمدات کا ذکر کرتے ہوئے صدر شین بام نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایووکاڈو کی برآمد بہت جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اسی مقصد کے تحت حکومت امریکی حکام سے مذاکرات کر رہی ہے اور ان علاقوں میں سکیورٹی بھی بڑھائی جا رہی ہے جہاں نیشنل گارڈ کی موجودگی کم تھی۔شین بام نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے مچواکان کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیے جانے کے بعد انہوں نے ریاست میں ایووکاڈو کے کاشت کاروں اور برآمد کنندگان سے ملاقات کی۔ مچواکان امریکی مارکیٹ کے لیے ایووکاڈو کی پیداوار اور برآمد کے حوالے سے ایک اہم مرکز ہے۔
امریکی سفارتخانے سے ملاقات کی درخواست
اسی دوران میکسیکو کی وزارتِ زراعت اور دیہی ترقی نے امریکی سفارتخانے کے ساتھ جلد از جلد ایک اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزارت نے تجویز دی ہے کہ ایووکاڈو کی جانچ کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے اور اس دوران میکسیکو کی قومی غذائی تحفظ سروس کے نگران بھی موجود رہیں۔صدر شین بام نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ایووکاڈو کی برآمدات دوبارہ معمول پر لائی جا سکیں۔
امریکی سکیورٹی خدشات کیا ہیں؟
امریکہ نے بدھ کو سکیورٹی الرٹ سے متعلق اعلان میں کہا تھا کہ امریکی مفادات کو لاحق خطرات کے باعث مچواکان میں اس کی سرکاری سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایووکاڈو کی جانچ اور درآمد کا عمل بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ مچواکان میں منظم جرائم اور تشدد کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے، جس کے باعث ایووکاڈو کی صنعت اور اس سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی رہی ہیں۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی بھی برقرار
دوسری جانب امریکہ اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاملات پر بھی اختلافات جاری ہیں۔ جون کے آغاز میں میکسیکو کے اقتصادی امور کے سیکریٹری مارسیلو ایبرارڈ نے کہا تھا کہ میکسیکو شمالی امریکہ کے سہ فریقی آزاد تجارتی معاہدے کی نظرثانی کے عمل کے دوران موجودہ ٹیرف ختم کرنے کے لیے امریکہ کو قائل کرنے پر توجہ دے گا۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقتصادی سیکریٹری نے بتایا تھا کہ امریکی وفد نے امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدے (USMCA) کے جائزے سے متعلق ابتدائی باضابطہ مذاکرات کے بعد کئی تجاویز پیش کی ہیں۔
ٹرمپ دور میں درآمدی ٹیرف بڑا مسئلہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران امریکہ مختلف درآمدی اشیا پر الگ الگ ٹیرف عائد کر رہا ہے۔ یہ شرح اس بات پر منحصر ہے کہ متعلقہ مصنوعات کہاں تیار کی گئی ہیں۔میکسیکو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری بین الاقوامی تجارتی نظام سے نمایاں طور پر مختلف ہے، خاص طور پر شمالی امریکہ کے اہم تجارتی شراکت داروں میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…