واشنگٹن: امریکہ کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی کے اطراف جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ اس پر طے شدہ وقت سے دو دن پہلے عمل درآمد شروع ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور جنگ سے متاثرہ علاقے میں ضروری انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی 27 اکتوبر 2026 کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح چار بجے نافذ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی حفاظت اور اہم انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت کے لیے جنگ بندی کے نفاذ کا وقت دو دن پہلے کر دیا گیا۔ اس کا جغرافیائی دائرہ خرسون علاقے کے اولیشکی سے آگے تک بڑھا دیا گیا ہے، تاکہ انسانی امداد لے جانے والے قافلوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔ میلانیا کے مطابق، روسی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل والیری واسیلیوِچ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے 23 اکتوبر کو دی تھی جنگ بندی کی اطلاع
یہ اعلان وائٹ ہاؤس کے 23 اکتوبر کو جاری کردہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں محدود علاقے کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مقصد عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روکنا، انسانی امداد پہنچانا اور شہریوں کو محفوظ راستے سے نکالنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ اپنے پہلے بیان میں میلانیا ٹرمپ نے کہا تھا کہ اولیشکی کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ محاذِ جنگ پر واقع ایک ایسا شہر ہے جو تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق، شہر میں باقی رہ جانے والی زیادہ تر آبادی بزرگ افراد پر مشتمل ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شہریوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ علاقے میں بجلی کی محدود فراہمی، بارودی سرنگوں سے متاثرہ سڑکوں اور مسلسل فوجی حملوں کے باعث حالات انتہائی دشوار ہیں۔ ایسے میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستے کی فراہمی ناگزیر ہے۔
روس اور یوکرین کے حکام کے ساتھ براہِ راست رابطہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق، میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے روس اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست کام کیا۔ اس عمل میں جنگ بندی کے وقت، تکنیکی طریقۂ کار اور عملی انتظامات کو شامل کیا گیا۔ میلانیا نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے شہری نمائندے متاثرہ علاقے میں لوگوں کے گھروں کا دورہ کرکے ان کی ضروریات کا جائزہ لیں گے۔ جو افراد وہاں سے نکلنا چاہیں گے، انہیں مربوط مدد اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ روس یا یوکرین میں اپنی پسند کی منزل تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ امریکہ کا ایک غیر جانب دار میڈیا ادارہ زمینی سطح پر کام کرنے والی ٹیموں کے ساتھ رہے گا اور ان کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرے گا، تاکہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے کہ متاثرہ خاندانوں کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔
نیویارک میں انسانی بحران کی جانب توجہ دلائی گئی
میلانیا ٹرمپ نے بتایا کہ اولیشکی میں انسانی بحران کے بارے میں انہیں نیویارک میں منعقدہ اپنے پروگرام ’فوسٹرنگ دی فیوچر ٹوگیدر‘ کے دوران ایک نجی گفتگو میں آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔ جنوبی یوکرین میں دریائے دنیپرو کے پار خرسون کے مقابل واقع اولیشکی کی جنگ سے پہلے آبادی تقریباً 24 ہزار تھی۔ وائٹ ہاؤس کے پہلے بیان میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق، شہر میں اب صرف 1700 سے 2000 افراد باقی رہ گئے ہیں، جن میں زیادہ تر بزرگ شہری ہیں۔ ان کے علاوہ تقریباً 50 بچے بھی شہر میں موجود ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جن مساجد کو آج نقصان پہنچایا جا رہا ہے…
ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی…
یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے…
سائنس دانوں کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے اے آئی اور دیگر ٹیکنالوجیز کو…