تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے جوہری پروگرام پر ایک بڑی پیشکش دی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اگر اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹا دی جائیں تو وہ یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت ’’کافی اچھی‘‘ رہی ہے اور کسی معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔ جمعہ کے روز عمان میں امریکہ اور ایران کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت ہوئی۔ اگرچہ دونوں فریق براہ راست آمنے سامنے نہیں بیٹھے، تاہم ثالثوں کے ذریعے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کسی سمجھوتے کے لیے تیار نظر آتا ہے، لیکن حتمی فیصلہ معاہدے کی شرائط پر منحصر ہوگا۔ یہ ملاقات گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فوجی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ بات چیت تھی، جن میں ایران کے جوہری اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اگلے دور کی بات چیت پر اتفاق
دونوں ممالک نے اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت کے بعد مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگلا دور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ فی الحال کسی تاریخ کا تعین نہیں ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے وزیرخارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شریک ہوئے۔ اس عمل میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ مذاکرات کی ثالثی عمان کے وزیرخارجہ بدر البوسیدی نے کی، جنہوں نے دونوں وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
کن نکات پر بات ہوئی؟
ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رہا۔ عراقچی نے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائل، خطے میں سرگرم گروہوں یا اندرونی سیاست پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد تک محدود رکھنے کی ضمانت دینے کو تیار ہے، بشرطیکہ اس پر عائد پابندیاں ہٹا دی جائیں۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ وہ یورینیم افزودگی کو 60 فیصد تک محدود رکھنے پر آمادہ ہے۔
امریکہ کے مطالبات اور اختلاف
امریکہ چاہتا ہے کہ بات چیت کا دائرہ وسیع ہو اور اس میں میزائل پروگرام، خطے میں سرگرم مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق جیسے معاملات بھی شامل ہوں۔ سب سے بڑا تنازع یورینیم افزودگی کو لے کر ہے۔ ایران اسے اپنا حق مانتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے جوہری ہتھیاروں کی سمت قدم تصور کرتے ہیں۔ عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
فوجی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 8 فروری کو فضائیہ کے کمانڈروں کی سالانہ میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ یہ 37 برس میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ 1989 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ ہر سال اس اجلاس میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ ان کی غیر حاضری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس سے تہران کی آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…
انڈیگو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)…
بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم سمادھان ابھیان…
2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…
مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے…
وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…