کریملن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس مطالبے سے اتفاق کیا ہے کہ امن مذاکرات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، جس سے جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ممکنہ تیاری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس سال ترکیہ میں یوکرین اور روس کے درمیان دو دور کے مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں قیدیوں اور فوجیوں کی باقیات کے تبادلے کا معاہدہ طے پایا۔ یہ پیش رفت، اگرچہ محدود ہے، پھر بھی دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت سے چیلنجز باقی ہیں۔
کریملن کے اس بیان کو کچھ ماہرین نے محتاط پرامید نقطہ نظر کے طور پر دیکھا ہے، کیونکہ روس نے پہلے مذاکرات کے لیے کھلے پن کا اشارہ دیا تھا لیکن سخت شرائط عائد کی تھیں۔ یوکرین نے مسلسل زور دیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام لازمی ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے۔ حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق ممکنہ طور پر مذاکرات کی رفتار بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح خاکہ یا ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔
عالمی برادری، خاص طور پر ترکیہ جیسے ثالث ممالک، اس پیش رفت کو ممکنہ طور پر تنازع کے خاتمے کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاہم، مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے لچک دکھانے اور بین الاقوامی دباؤ پر ہوگا۔ اگرچہ قیدیوں کے تبادلے جیسے چھوٹے معاہدوں سے اعتماد سازی میں مدد مل سکتی ہے، لیکن بڑے مسائل جیسے کہ علاقائی حدود اور سیکورٹی ضمانتوں پر ابھی تک کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ آنے والے ہفتوں میں مزید مذاکراتی دور کی توقع کی جا رہی ہے، لیکن اس عمل کی کامیابی غیر یقینی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
عمر یاگی کو 2025 میں دو دیگر سائنس دانوں کے ساتھ کیمسٹری کا نوبل انعام…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سردار پٹیل نے ہندوستان کے جغرافیائی، سیاسی…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،…
آزادی کے بعد 500 سے زائد شاہی ریاستوں کو ہندوستانی یونین میں شامل کرکے ملک…
وزیر اعظم مودی رین فاریسٹ اور وامن ورکش واٹیکا کا بھی دورہ کریں گے۔ اس…
دہلی-این سی آر میں آج آسمان پر ہلکے بادل چھائے رہنے اور دن میں دھوپ…