بین الاقوامی

Iranian Army Chief announced Kill American soldier: ’امریکی فوجی مارو، 60 ہزار ڈالر لو‘؛ ایران کا جنگ جیتنے کا منصوبہ کیا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے امریکا کے خلاف اب تک کے اپنے انتہائی جارحانہ اور حیران کن اعلانات میں سے ایک کیا ہے۔ ایرانی فوج نے امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے پر بھاری نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکا ایران میں کسی خفیہ زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے جواب میں تہران نے یہ سخت انتباہ جاری کیا ہے؟ تاہم، تازہ دستیاب رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے، جبکہ ایران میں اس وقت کسی امریکی زمینی فوجی دستے کی موجودگی کی اطلاع نہیں ہے۔

خواتین کے لیے انعام دوگنا

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص کسی امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا یا اسے گرفتار کرکے ایرانی فوج کے حوالے کرے گا، اسے 30 ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کا سب سے غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی کسی ایرانی خاتون کی جانب سے کی جاتی ہے تو انعام کی رقم دوگنی یعنی 60 ہزار ڈالر ہوگی۔

امریکی فوجی کو ہلاک کرنے والے ہتھیار کو میوزیم میں رکھا جائے گا

حاتمی کے مطابق یہ منصوبہ ان شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبات کے بعد پیش کیا گیا ہے جو امریکا کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیوں میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جس ہتھیار سے کسی امریکی فوجی کو ہلاک کیا جائے گا، فوج اسے اس کی قیمت سے دگنی رقم میں خریدے گی اور حملہ آور کو ایک نیا ہتھیار فراہم کیا جائے گا۔ اس تاریخی ہتھیار کو بعد میں ایک مخصوص میوزیم میں محفوظ کرکے رکھا جائے گا۔

ایران کا امریکا کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کا انتباہ

ایرانی فوج کے سربراہ نے امریکا کو براہِ راست مشرق وسطیٰ سے نکلنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج کو اب خلیج فارس، خلیج عمان یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ حاتمی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجی طاقت کی حقیقت پوری طرح سامنے آ چکی ہے۔ آبنائے ہرمز خطے میں انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے اور اس سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر کیا اثر پڑے گا؟

ایران کا یہ سخت اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) کے تحت طے شدہ 60 روزہ مذاکراتی مدت اہم مرحلے میں ہے۔ 17 جون 2026 کو طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت میں امریکا اور ایران نے جنگی کارروائیاں ختم کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرائط بھی شامل تھیں۔ اس معاہدے کو حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبوری فریم ورک قرار دیا گیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو مزید مذاکرات کے ذریعے حتمی سمجھوتے تک پہنچنا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Smit Machchhar airlifted to Abu Dhabi: دبئی-تل ابیب پرواز میں شریک پائلٹ کے حملے میں زخمی ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار بہتر علاج کے لیے ابوظبی منتقل

اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…

12 minutes ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

2 hours ago