بین الاقوامی

Kazakhstan To Join Abraham Accords : کیا ہے ابراہیمی معاہدہ، جس کے تحت قازقستان ملائے گا اسرائیل سے ہاتھ

واشنگٹن/تل ابیب: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مسلم اکثریتی ملک قازقستان نے اسرائیل سے ہاتھ ملانے کے لیے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے والا پہلا نیا ملک ہونے کے ناطے اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ”میں نے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتن یاہو اور قازقستان کے صدر قاسم جومارٹ توکایف کے درمیان ایک نہایت مثبت گفتگو کی۔ قازقستان میرے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا ملک ہے جو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوا ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ معاہدہ دنیا بھر میں امن، تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ بہت سے ممالک اس وقت اسی راستے پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم جلد ہی اس تاریخی اقدام کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک دستخطی تقریب منعقد کریں گے“۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ دیگر مسلم ممالک کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے تاکہ انہیں ابراہیمی معاہدے کے دائرے میں لایا جا سکے۔ ان کے مطابق، ”دنیا میں استحکام، ترقی اور باہمی اعتماد کے قیام کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے“۔

ابراہیمی معاہدہ کیا ہے؟
ابراہیمی معاہدے کی بنیاد سنہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا تھا، جو دہائیوں سے فلسطین کے مسئلے پر ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں۔ یہ معاہدہ حضرت ابراہیمؑ کے نام پر رکھا گیا، جنہیں یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب میں پیغمبر کے طور پر مانا جاتا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان 2020 میں تعلقات معمول پر لانے کی تاریخی پیش رفت ہوئی۔ بعد ازاں بحرین، مراکش اور سوڈان نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان ممالک نے اسرائیل میں اپنے سفارتی مشن کھولنے پر اتفاق کیا ہے، ساتھ ہی تجارت، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں تعاون شروع ہوا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں غزہ جنگ کے باعث اس معاہدے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔

قازقستان کی شمولیت کیوں ہے اہم؟
قازقستان کی آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ مسلم ہے، مگر اس کے باوجود ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ماضی میں دفاع، توانائی اور زراعت کے میدانوں میں کئی مشترکہ منصوبے چلائے ہیں۔ قازقستان کی شمولیت سے اب نہ صرف اسرائیل اور وسطی ایشیائی خطے کے تعلقات میں نیا باب کھلے گا، بلکہ یہ قدم دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ”ابراہیمی معاہدہ ایک ایسے عالمی نیٹ ورک کی بنیاد ہے جو مذہبی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر امن و ترقی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔ قازقستان کی شمولیت اس مشن کو مزید مضبوط کرے گی“۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں کون سے دیگر اسلامی ممالک بھی اس ’امن اتحاد‘ کا حصہ بننے کے لیے آگے آتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

29 minutes ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

3 hours ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

4 hours ago