بین الاقوامی

Meloni Proposes Burqa Ban: ’برقع اور نقاب پر مکمل پابندی‘، میلونی حکومت کا سخت قدم، آخر اس کے پیچھے کیا ہے وجہ؟

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے 2027 کے عام انتخابات سے قبل اسکولوں میں برقع اور نقاب پہننے پر پابندی سمیت کئی نئی تجاویز کا اعلان کیا ہے۔ میلونی نے کہا ہے کہ حکومت جلد ہی اس سلسلے میں ایک مسودہ کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس تجویز میں اسکولوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور ان غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا لازمی بنانے کی بات بھی شامل ہے جن کے بچوں کو اسکول کے نظام میں گھلنے ملنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

مجوزہ نئے ضوابط میں کیا ہے؟

برقع اور نقاب پر پابندی: مجوزہ ضابطے کے تحت اسکولوں میں چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، خاص طور پر برقع اور نقاب، پر پابندی عائد کی جائے گی۔ میلونی نے کہا ہے کہ اسکول میں طلبہ کو چہرہ کھلا رکھنا چاہیے۔ غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کی تجویز: حکومت ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ تاہم نئی حد کتنی ہوگی، اس کی حتمی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اٹلی میں پہلے ہی غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے حوالے سے 30 فیصد کی حد سے متعلق ضابطہ موجود ہے۔

اطالوی زبان سیکھنا لازمی: ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین جن کے بچوں کو اسکول کے نظام میں گھلنے ملنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہوں، انہیں اطالوی زبان سیکھنا لازمی کیا جا سکتا ہے۔ میلونی نے زبان، ثقافت اور ملکی قوانین کو سمجھنے کو اٹلی میں مستقبل بنانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

دائیں بازو کی سیاست کا دباؤ

میلونی کی حکومت کو اپنی دائیں بازو کی سیاست سے بھی آگے بڑھ کر سخت موقف رکھنے والی قوتوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ نیشنل فیوچر پارٹی نے رواں سال جولائی میں اسکولوں میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ 2027 کے عام انتخابات سے قبل اٹلی میں امیگریشن اور انضمام سے متعلق سیاسی بحث کا بھی اہم حصہ بن رہا ہے۔ میلونی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اٹلی آنے والے افراد کو ملک کی زبان سیکھنی، ثقافت کو سمجھنا اور قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی انضمام کا راستہ ہے۔

اٹلی میں برقع اور نقاب کی موجودہ قانونی حیثیت

اٹلی میں 1975 سے ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت ایسے ہیلمٹ یا لباس کے استعمال پر پابندی ہے جس سے کسی شخص کی شناخت مشکل ہو، البتہ اس میں جائز وجوہات کے لیے استثنا بھی موجود ہے۔ 2008 کے ایک عدالتی فیصلے میں مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنیاد پر مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس کے استعمال سے متعلق مزید وضاحت کی گئی تھی۔یورپ کے بعض دیگر ممالک، جن میں فرانس اور بیلجیم شامل ہیں، عوامی مقامات پر مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندیاں پہلے ہی نافذ کر چکے ہیں۔ اٹلی میں میلونی کی نئی تجویز اب پارلیمانی منظوری کے مرحلے سے گزرے گی؛ حکومت سے منظوری کے بعد اسے قانون بننے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Students in Chennai welcomed PM Modi: چنئی میں طلبہ نے کیا وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال، ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا لیا عزم

وزیر اعظم نریندر مودی جے گوپال گاروڈیا ہندو ودیالیہ کی گولڈن جوبلی تقریب میں ہوئے…

31 minutes ago

Delhi-NCR Weather Update: دہلی-این سی آر میں موسم کا بدلا مزاج، تیز ہواؤں سے ملی راحت، جلد دستک دے سکتی ہے سردی

بادلوں کی آمد و رفت اور تیز ہواؤں سے گرمی اور حبس میں کمی، 15…

1 hour ago

Adani’s Kutch Copper Plans: اڈانی کی کَچھ کاپر کا بڑا توسیعی منصوبہ، تانبے کی اسمیلٹنگ صلاحیت دوگنی کرکے 10 لاکھ ٹن سالانہ کرنے کی تیاری

کمپنی کا مقصد ہندوستان میں تانبے کی پیداوار بڑھانا، 115 میگاواٹ قابل تجدید توانائی شامل…

2 hours ago

Nepal Budhi Gandaki Flood: نیپال میں پھر بحران، بوڑھی گنڈک ندی میں سیلاب سے یوپی اور بہار تک خطرہ، کئی پل بہے، 10 افراد لاپتہ

نیپال کے گورکھا ضلع میں بوڑھی گنڈک ندی میں اچانک شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ…

2 hours ago