بین الاقوامی

Mojtaba ready to negotiate with US: اسرائیلی میڈیا کا بڑا دعویٰ، امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں مجتبیٰ خامنہ ای، آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے اشارے

ریاض: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ یہ رپورٹ یدیعوت احرونوت کے حوالے سے عرب نیوز نے شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا کہ ایرانی قیادت کی اعلیٰ سطح پر اس سلسلے میں غور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ثالث اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ایران کی اعلیٰ قیادت کی منظوری حاصل تھی۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

ایران کی باضابطہ تردید

دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی رد کیا جس میں انہوں نے مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باوجود وہ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

امریکی صدر ٹرمپ نے اس دوران یہ بھی کہا ہے کہ عالمی سطح پر اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز جلد کھول دیا جائے گا۔ یہ راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو اس آبی گزرگاہ کو مشترکہ طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جو عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

جنگ اور توانائی بحران کے اثرات

مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، خاص طور پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافے اور معاشی عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سفارتی کوششیں اور غیر یقینی صورتحال

امریکہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایران کے توانائی مراکز پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جسے سفارتی پیش رفت کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت ’’مثبت اور تعمیری‘‘ رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم زمینی حقائق اور مختلف بیانات کے تضاد نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں واقعی کسی حل تک پہنچتی ہیں یا خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Assault Viral Video: قانون کا خوف ختم؟ اوور ریٹنگ کی مخالفت پر نوجوان کو بے رحمی سے پیٹا، ویڈیو وائرل

میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…

52 minutes ago

Ishaan Anand New Coordinator of BSP: آکاش آنند کے بعد اب کون؟ مایاوتی نے 27 سالہ ’نئے چہرے‘ ایشان آنند کو سونپی بسپا کی اہم ذمہ داری

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…

1 hour ago

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

3 hours ago