غزہ میں اسرائیلی حملہ جاری۔ (فائل فوٹو)
غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کا حملہ چوتھے روز بھی جاری ہے جب اس کی زمینی افواج نے شمالی اور جنوبی غزہ پر حملہ کیا اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کے ساحلی علاقے پر قبضے کی دھمکی دی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ ہم حماس کے خلاف اپنی فوجی مہم میں ’’شدت‘‘ لائیں گے اور ہر طرح کا دباؤ بنائیں گے۔ ہم غزہ کے جنوب کی آبادی کے انخلا اور غزہ کے رہائشیوں کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے رضاکارانہ ہجرت کے منصوبے پر عمل درآمد پر بھی زور دیں گے۔
مقامی میڈیا کاٹز نے فوج کو ہدایت کی کہ “غزہ میں اضافی علاقوں پر قبضہ کر لیا جائے، آبادی کو خالی کیا جائے اور غزہ کے ارد گرد سیکورٹی زونز کو وسعت دی جائے تاکہ اسرائیلی کمیونٹیز اور فوجیوں کی حفاظت کی جا سکے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ کی زمین پر اس وقت تک قبضہ کرتا رہے گا جب تک حماس غزہ میں قید تمام اسرائیلیوں کو رہا کرنے پر راضی نہیں ہو جاتا۔ کاٹز نے کہا ہے کہ ’’حماس جتنا یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار پر قائم رہے گا، اتنا ہی علاقہ کھوئے گا۔ اور مقبوضہ علاقے اسرائیل کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو اسرائیل مستقل کنٹرول کے لیے پٹی کے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ جاری رکھے گا۔‘‘
اس ہفتے کے شروع میں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے اپنی توسیع شدہ زمینی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر علاقے کا مرکزی شمال-جنوبی راستہ بند کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی خبر کے مطابق رفح کے رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی فورسز نے بغیر کسی انتباہ کے حملہ کیا۔ ’’انھوں نے کتابچے نہیں پھینکے اور نہ ہی لوگوں سے ان علاقوں کو خالی کرنے کے لیے کوئی انتباہ نہیں چھوڑا۔ اچانک فلسطینیوں نے خود کو لامتناہی حملوں اور گولہ باری کی زد پر پایا۔‘‘ غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ یہ زمینی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل نے منگل کے روز غزہ میں تقریباً دو ماہ کی جنگ بندی کو توڑا۔ اس میں اب تک 590 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو ئے ہیں، جن میں 200 بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ میں اسپتالوں کی نازک صورت حال
دریں اثنافلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA نے کہا کہ امدادی سامان میں بڑی کمی کے درمیان غزہ کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ ادارے کے اہلکار نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے طویل عرصہ ہے جب غزہ میں کوئی بھی سامان نہیں پہنچا ہے۔ جنگ بندی کے آخری چھ ہفتوں کے دوران ہم نے امدادی نظام کے طور پر جو پیش رفت کی تھی، اسے تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس دوران طبی سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ کی پٹی میں داخل نہیں ہوا ہے۔ مزید ساحلی انکلیو میں ایندھن کی کمی صورت حال کو مزید خراب کر رہی تھی۔غزہ کے زیادہ تر اسپتالوں کو آنے والے دنوں میں ایندھن نہ ملنے کی صورت میں گرنے اور بند ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ واضح رہے کہ 2 مارچ کو اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے بعد غزہ میں تمام انسانی امداد کو روک دیا، جس میں خوراک، ادویات اور ایندھن شامل ہیں۔ اسرائیل کے اس قدم کی عالمی سطح پر مذمت ہوئی ہے۔ یورپی ممالک نے خبردار کیا کہ ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…