اسرائیل میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، ملک کی عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کو باہر سے حمایت دینے کے لیے آمادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ تاہم، انہوں نے حمایت کے بدلے ایک اہم شرط بھی پیش کی ہے۔ اگر یہ شرط تسلیم کر لی جاتی ہے تو حکومت کی تشکیل کا عمل ایک نئے موڑ پر پہنچ سکتا ہے۔
اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ پہلی شرط
عرب جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ کنیسٹ یعنی اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر امیر اوہانا کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی سمت میں یہ پہلا قدم ہونا چاہیے۔ اگر آئزنکوٹ اس مطالبے کو قبول کر لیتے ہیں تو اقتدار کی تبدیلی کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کی تیاری
اخبار ہاریتز کی رپورٹ کے مطابق، دونوں عرب جماعتوں کا بنیادی مقصد بنجامن نیتن یاہو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانا ہے۔ اسی معاملے پر پیر، 2 نومبر کو دونوں جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان ایک میٹنگ بھی ہوئی۔ اس دوران آئندہ کی حکمت عملی اور ممکنہ سیاسی مساوات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رعام نے باہر سے حمایت دینے کا اشارہ دیا
عرب جماعت رعام (RA’AM) کے ایک سینئر لیڈرنے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی تشکیل کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس سلسلے میں جماعت کے لیڈرجلد ہی صدر سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ جماعت نے واضح کیا کہ فی الحال نئے سیاسی اتحاد اور مساوات پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔
جوائنٹ لسٹ نے بیان جاری کیا
عرب جماعت جوائنٹ لسٹ نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کی تشکیل کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے حامی اتحاد کو سب سے پہلے اسپیکر امیر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے قدم اٹھانا چاہیے۔ اس کے مطابق، یہ اقتدار کی تبدیلی کے عمل کا ابتدائی اور اہم مرحلہ ہوگا۔
اکثریت کا ہندسہ آسانی سے عبور ہو سکتا ہے
دوسری جانب، رعام اتحاد نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تبدیلی کے حامی اتحاد کی حکومت بننے کے امکانات مضبوط ہیں۔ دونوں عرب جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 19 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ اگر یہ ارکان گادی آئزنکوٹ کے خیمے میں شامل ہو جاتے ہیں تو حمایت کا ہندسہ بڑھ کر 67 تک پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے، جب کہ فی الحال نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس صرف 53 ارکان ہیں۔
صدر تمام جماعتوں کے لیڈروں سے کریں گے بات چیت
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، صدر اسحاق ہرزوگ بدھ سے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کے بعد وہ کسی ایسے لیڈر کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں جو اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
انتخابات ٹالنے کی کوشش میں صدر
صدر ہرزوگ نے کہا ہے کہ ملک کو ایک اور انتخاب سے بچانے کی ضرورت ہے۔ ان کی ترجیح ہوگی کہ اکثریت کی حمایت کی بنیاد پر کسی لیڈر کا انتخاب کیا جائے۔ تاہم، اگر کوئی بھی فریق مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پارلیمنٹ تحلیل کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اگلے انتخابات ہونے تک بنجامن نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…
دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…
جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ میٹرو نیٹ ورک کی توسیع سے لوگوں کو ٹریفک…
یہ معاملہ براہ راست ماحولیات اور عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے۔عدالت نے واضح کیا…
آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ جن موضوعات سے متعلق عوام سے حمایت مانگی…