تہران: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا: ’’اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو جنگ مشرقِ وسطیٰ سے باہر تک پھیل جائے گی اور ہمارے تباہ کن حملے آپ کو ان جگہوں پر نشانہ بنائیں گے جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘
’’ہم نے ابھی اپنی پوری طاقت کا استعمال نہیں کیا‘‘
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مرحلے کی لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا: ’’اگر ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی گئی تو ایران اپنی نئی علاقائی اور بین الاقوامی صلاحیتیں متحرک کرے گا۔‘‘ ایرانی فورس نے مزید کہا کہ اس نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی جارحیت کے بعد جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے، اور اب وہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق: ’’دشمن کے برعکس ایران کی وارننگز کھوکھلی نہیں ہوتیں۔‘‘ تنظیم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقت کا اندازہ سوشل میڈیا بیانات سے نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں ہوگا۔
ٹرمپ کا بیان، ’’ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے‘‘
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ایران ’’بے حد شدت‘‘ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور موجودہ تنازع بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں جلد بڑی کمی آئے گی کیونکہ دنیا میں تیل کی فراہمی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔‘‘
اسی دوران امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین کی پیش کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر امریکی افواج کو ایران کے خلاف کسی بھی جنگی کارروائی میں شامل نہ کیا جائے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جبکہ اس سے قبل قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اپیل پر صدر ٹرمپ تہران پر ’’منصوبہ بند حملہ‘‘ مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…