مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت، روس، چین، پاکستان اور عراق سے وابستہ جہازوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ ان ممالک کو اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رہے گی۔
ایران کا مؤقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی چینل پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ممالک کو استثنا دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ساتھ ایران کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ جبکہ امریکہ، اسرائیل اور چند خلیجی ممالک کے جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پابندی کیوں لگائی گئی؟
عباس عراقچی نے کہا کہ دشمن ممالک کو اس راستے سے گزرنے دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تنازع میں شامل ممالک کو دشمن تصور کیا گیا ہے اور انہیں اس سمندری راستے سے روک دیا جائے گا۔
ایران کا کنٹرول
ایران نے اس فیصلے کو اپنی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد ایران نے اس خطے میں اپنا اختیار ظاہر کیا ہے۔ جب ابتدائی طور پر جزوی ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تو بہت سے لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن حالیہ پیش رفت نے ثابت کر دیا کہ ایران دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک پر کنٹرول رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بھارت کو راحت
بھارت سمیت پانچ ممالک کو دی گئی چھوٹ کے بعد ان کے جہازوں کو تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اس راستے سے گزرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ یہ فیصلہ بھارت کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے بڑی راحت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…