بین الاقوامی

Iran’s Army chief: ’’آئی آر آئی ایس دینا‘‘ پر حملہ بے جواب نہیں رہے گا، ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے عملے کے ارکان کو پیش کیا خراج

تہران: ایران کی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ بحرہند میں ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena پر حملے میں ہلاک ہونے والے عملے کی موت ’’بے جواب نہیں رہے گی۔‘‘ یہ اطلاع الجزیرہ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے حوالے سے دی ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے اس جنگی جہاز پر حملے کی سخت مذمت کی۔ یہ جہاز ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا اور ایک فوجی مشق مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہا تھا۔ آئی آر این اے کے مطابق امیر حاتمی نے کہا: ’’دینا ڈسٹرائر کے عملے نے ایک پُرامن مشن مکمل کیا تھا اور واپسی کے دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔‘‘ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عملے کے ارکان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کسی براہ راست جنگ میں شامل نہیں تھے۔ ہلاک ہونے والے ارکان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امیر حاتمی نے کہا: ’’دینا کا نام اور اس کے عملے کی قربانی ایران کی بحری تاریخ میں جرات اور وفاداری کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج اپنے سمندری سرحدوں کا دفاع کرے گی اور اپنی بحری طاقت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ کام کرے گی۔

ایران نے امریکہ پر جنگی جرم کا الزام لگایا

جمعہ کے روز ایرانی حکومت نے آئی آر آئی ایس دینا کے ہلاک شدہ عملے کے ارکان کے تابوتوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ بھارت میں ایران کے سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’’یہ ان بحری شہداء کے پاک اور باعزت جسد خاکی ہیں جو امریکی افواج کے دہشت گردانہ حملے میں آئی آر آئی ایس دینا پر جان سے گئے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کو کہا تھا کہ امریکی آبدوز نے اس فریگیٹ کو ٹارپیڈو مار کر تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ گالے کے ساحل سے تقریباً 40 ناٹیکل میل دور پیش آیا۔ بقائی نے اس کارروائی کو ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایرانی عوام اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جہاز کو بھارتی بحریہ نے مشترکہ بحری مشق اور بندرگاہی دورے کے لیے مدعو کیا تھا، لیکن اسے بھارت اور سری لنکا کے ساحلوں کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ نے عملے کے ارکان کو بچانے کی کارروائی میں بھی رکاوٹ ڈالی۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام

بقائی کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتی ہے اور جنگ کے قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن II اور اضافی پروٹوکول I کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اطلاعات کے مطابق IRIS Dena چار مارچ کو سری لنکا کے جنوب میں اس وقت ڈوب گیا جب امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو نے اسے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ گالے کے مغرب میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہوا۔ اس واقعے کے بعد بھارتی بحریہ نے INS Tarangini اور INS Ikshak سمیت کئی جہاز اور P‑8I طیارے تلاش و بچاؤ کی کارروائی میں مدد کے لیے روانہ کیے۔ جہاز پر سوار تقریباً 180 افراد میں سے 87 ملاحوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ 32 زندہ بچ جانے والوں کو سری لنکن بحریہ نے بچا کر گالے کے اسپتالوں میں منتقل کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

48 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

1 hour ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago