تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں پوری سنجیدگی اور پختہ عزم کے ساتھ شرکت کی ہے، تاہم ان مذاکرات کے نتائج کا انحصار بالآخر امریکی رویے اور پالیسی پر ہوگا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بات انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے امریکہ کا مثبت اور حقیقت پسندانہ رویہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، مگر یکطرفہ دباؤ یا غیر متوازن شرائط کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
لبنان کی صورتحال اور عالمی دباؤ کی اپیل
گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں کو ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل اور امریکہ پر دباؤ ڈالے تاکہ خطے میں جاری کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے فوری طور پر لبنان میں حملوں کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ سفارتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مضبوط اور قابلِ عمل معاہدہ طے کیا جانا چاہیے، جو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکے۔ میکرون نے ایران سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو جلد بحال کرنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
مذاکرات کا سلسلہ جاری، اختلافات برقرار
ادھر اسلام آباد میں جاری ایران-امریکہ مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 15 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد بھی کچھ اہم اختلافات برقرار ہیں، تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں جانب کی تکنیکی ٹیمیں مختلف نکات پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہی ہیں تاکہ اب تک ہونے والی پیش رفت کو دستاویزی شکل دی جاسکے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہفتہ کی شب اختتام پذیر ہوا، جس کے بعد مزید بات چیت کے لیے نیا دور شروع کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات میں اعلیٰ سطحی نمائندوں کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت کی راہ تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں، اگرچہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…