آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شامل نہیں ہوں گے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات (تدفین) کے سلسلے میں تیاریاں زوروشورسے جاری ہیں۔ ان کی سرکاری آخری رسومات 4 جولائی سے شروع ہوکر9 جولائی تک مختلف شہروں میں منعقد ہوں گی۔ اس دوران غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اوردنیا بھرسے اعلیٰ شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ ایران کے سپریم لیڈرکے بھارت میں نمائندے آیت اللہ حکیم الٰہی کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کوآخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے خود اس تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے، لیکن سیکورٹی اداروں نے انہیں عوامی سطح پرسامنے آنے سے گریزکرنے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے حامیوں سے ملاقات کے خواہش مند تھے، تاہم موجودہ حالات میں ان کی سلامتی کولاحق خطرات کے پیشِ نظرانہیں کسی بھی عوامی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی لئے امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ وہ والد کی آخری رسومات میں عوامی طورپرنظرنہیں آئیں گے۔
بھارت کی سیاسی شخصیات کو بھی دعوت
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لئے وسیع پیمانے پرانتظامات کئے جا رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، تہران، قم اورمشہد میں مختلف مراحل پرہونے والی تقریبات میں بڑی تعداد میں عوام اورعالمی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں تقریباً دوکروڑافراد کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس تعداد کی سرکاری طورپرتصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایران نے وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے قومی صدرنتن نبین، کانگریس کے صدرملیکا ارجن کھڑگے، سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید، پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدرمحبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کوبھی باضابطہ دعوت دی ہے۔
بی جے پی اورکانگریس لیڈران کو بھی ملی دعوت
ایران نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کوخراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے تہران جائیں گی۔ اس کے علاوہ کانگریس صدرملکارجن کھڑگے، سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید اورکانگریس کے میڈیا شعبے کے سربراہ پون کھیڑا کوبھی دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس کی جانب سے غالب امکان ہے کہ سلمان خورشید پارٹی کی نمائندگی کریں گے، جبکہ پون کھیڑا نے کہا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ کانگریس صدر کریں گے۔ ایران نے بی جے پی کے سینئرلیڈراورسابق مرکزی وزیرمختارعباس نقوی کو بھی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ انہیں ایران کے سپریم لیڈرکے دفترکے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے ڈائریکٹرمحسن قمی کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ بھیجا گیا، جس میں انہیں بھارت کے خصوصی مہمان کے طورپرشرکت کی درخواست کی گئی ہے۔ مختارعباس نقوی نے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ذاتی حیثیت میں شرکت کریں گے یا اپنی پارٹی کی نمائندگی کریں گے۔ دعوت نامے میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتقال 28 فروری 2026 کو ہوا تھا اورقومی سوگ کے تحت تہران میں سرکاری آخری رسومات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھارت اورایران کے تاریخی اورتزویراتی تعلقات کا بھی ذکرکیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…