بین الاقوامی

Iran’s Mega Plan: آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا داؤں، امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی کی تیاری،جانیے کیا ہے میگا پلان؟

ایران ایک ایسے قانون پر کام کر رہا ہے، جو نافذ ہونے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی صورتحال کو بڑی حد تک تبدیل کر سکتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی اس وقت ایک ابتدائی بل کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا مقصد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے نزدیک “دشمن” سمجھے جانے والے دیگر ممالک کے بحری جہازوں کو دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے سے روکنا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، ایک رکنِ پارلیمنٹ نے بتایا کہ بل کا مسودہ اس وقت ماہرین کے جائزے کے مرحلے میں ہے۔ پارلیمنٹ نے بحری قوانین اور قومی سلامتی کے ماہرین سے بھی تجاویز طلب کی ہیں تاکہ حتمی مسودہ تیار کرنے سے پہلے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کی تجویز

مجوزہ قانون میں صرف بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی ہی نہیں بلکہ سخت مالی سزاؤں کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اگر کوئی جہاز ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر موجود سامان کی مجموعی مالیت کا 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس تجویز سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ ایران اس قانون کو محض علامتی اقدام کے بجائے مؤثر انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

چھ ماہ سے جاری کشیدگی

ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی گزشتہ کئی ماہ سے برقرار ہے اور اب تک اس کا کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا، تاہم زمینی حالات اب بھی معمول پر آتے دکھائی نہیں دے رہے۔ مسلسل جاری کشیدگی نے پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسی دوران امریکہ سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ طویل تنازع کے باعث بعض ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی ایک وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف کوئی بڑا فوجی آپریشن دیکھنے میں نہیں آیا۔

آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت

تازہ پیش رفت کے مطابق آبنائے ہرمز کے انتظام اور کنٹرول کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک عبوری معاہدے کی سمت پیش رفت کر رہے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کا کردار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے؟

دوسری جانب امریکہ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل مختلف ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل کہتے آئے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی بحری راستہ ہے اور اسے تمام ممالک کے جہازوں کے لیے بلا روک ٹوک کھلا رہنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کا اضافی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جانی چاہیے۔

حال ہی میں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ طویل تنازع کے باعث امریکی فوج کو بعض فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے حالات کو جلد معمول پر لایا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

56 minutes ago

PM Modi 76th Birthday: دفاع، خارجہ امور سے لے کر وزیر خزانہ تک، مرکزی وزرا نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی دی مبارکباد

76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…

3 hours ago

Arshad Madani’s Remarks On UCC: یو سی سی پر ارشد مدنی کا بیان، ’شریعت کے خلاف کوئی قانون قبول نہیں‘

امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں…

4 hours ago