بین الاقوامی

Iran Retaliates After US Strikes: مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ بھڑک اٹھی! امریکہ کی کارروائی کے جواب میں ایران کا حملہ، میزائلوں اور ڈرونز سے کیا گیا اٹیک

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے ہیں، جس سے کسی بھی ممکنہ معاہدے یا مفاہمت کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

امریکہ کی پہلی فوجی کارروائی

امریکہ نے پہلی بار براہِ راست فوجی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی شہروں پر رات کے وقت حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی دو روز قبل ایک اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں کی گئی۔ حملے کے بعد امریکہ نے آپریشن مکمل ہونے کا اعلان کیا، تاہم اس کے فوراً بعد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا اور اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دفاعِ ذات کے تحت کی گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق لڑاکا طیاروں اور بحریہ نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے فضائی دفاعی مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے اسے اپنے اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایک محدود اور متوازن کارروائی قرار دیا۔ بعد ازاں CENTCOM نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بتایا کہ آپریشن مکمل ہو چکا ہے۔

ایران کا جوابی حملہ

امریکی کارروائی کے بعد ایران نے بھی سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ چند گھنٹوں کے اندر اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ IRGC کے مطابق یہ حملہ رات گئے کیا گیا۔ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جاسک، سیریک اور قشم کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن میں بعض شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے جواب میں IRGC نے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ مزید سخت اقدامات کرے گا۔ حملوں کے بعد بحرین میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور شہریوں سے محتاط رہنے اور گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان واقعات کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے باعث خطے کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

10 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

11 hours ago