نئی دہلی : مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوج سے منسلک متعدد اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوابی فوجی کارروائی کے دوران کویت کے علی السالم اور احمد الجابر ایئر بیسز سمیت بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق مجموعی طور پر 18 اہم امریکی فوجی مراکز پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی افواج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں انجام دی گئی۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے مسلسل دوسرے روز ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکہ نے ان حملوں کو “دفاعی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنی افواج اور مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں کے دوران ملک کے جنوبی علاقوں اور مغربی تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ متعدد مقامات پر فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا۔امریکی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ تمام تجارتی اور عسکری جہاز اس علاقے سے دور رہیں، بصورت دیگر انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق اس کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے دو مرحلوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کی موجودگی والے فوجی مراکز پر حملے کیے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے سربراہ میجر جنرل ماجد موسوی نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ماجد موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران پورے خطے کو اس کے لیے “جہنم” بنا دے گا۔انہوں نے کہا، “کیا آپ مقدس آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں؟ ہم پورے ایران سے اس خطے کو آپ کے لیے جہنم بنا دیں گے۔” موسوی نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی افواج کی کسی بھی “اشتعال انگیز اور جارحانہ کارروائی” کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…