برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ایران پر امریکہ کی ’درست نشانہ بنانے والی‘ فضائی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے “سنگین خطرہ” قرار دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی مذاکرات کی راہ اپنائے۔ وزیرِ اعظم اسٹارمر نے کہا کہ امریکہ کی کارروائیوں سے اسرائیل کو درپیش خطرہ کم ہوا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا: “ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور امریکہ نے اس خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدام کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور خطے میں استحکام ہماری ترجیح ہے۔ ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور اس بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کرے۔”
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران پر بڑے پیمانے پر “درست نشانہ بنائے گئے” فضائی حملے کیے ہیں، اور خبردار کیا کہ اگر امن قائم نہ ہوا تو مزید جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل گروسی نے اتوار کو اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کے پیشِ نظر پیر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اسی روز، IAEA نے تصدیق کی کہ ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر حالیہ حملوں کے بعد کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، جن میں زیرِ زمین یورینیم افزودگی کا مرکز “فردو” بھی شامل ہے۔ IAEA کے بیان میں کہا گیا: “ایران کے تین جوہری مراکز — جن میں فردو بھی شامل ہے — پر حملوں کے بعد، فی الحال کسی بھی مقام پر تابکاری کے اخراج میں اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ جیسے جیسے مزید معلومات موصول ہوں گی، IAEA ایران کی صورت حال پر مزید جائزہ فراہم کرے گی۔”
دوسری جانب، ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر NPT (جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے)، کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ایرانی ایٹمی توانائی ادارے (AEOI) کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا: “اتوار کی صبح ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک وحشیانہ جارحیت کی گئی، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بالخصوص NPT کی۔ یہ اقدام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی بے حسی — بلکہ بعض پہلوؤں سے ملی بھگت — کے سائے میں انجام پایا۔”
اسرائیلی وزیرِ اعظم بیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت میں کی گئی فوجی کارروائی کی تعریف کی، اور کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا یہ جرات مندانہ فیصلہ “تاریخ کا رخ بدل دے گا”۔ یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ 13 جون سے جاری ہے، اور اب امریکہ بھی اسرائیل کے ساتھ کھل کر میدان میں آ چکا ہے۔ اتوار کو اسرائیلی فضائیہ (IAF) نے مغربی ایران میں فوجی اہداف پر ایک نئی فضائی کارروائی کی، جو اس وقت ہوئی جب ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل میں شہری زخمی ہوئے تھے۔
یہ تنازع 13 جون کو اس وقت شروع ہوا تھا جب اسرائیل نے ایران کے فوجی اور جوہری مراکز پر ایک بڑی فضائی کارروائی کی، جسے “آپریشن رائزنگ لائن” کا نام دیا گیا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے “آپریشن ٹرو پرامس 3” کے تحت بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کا ہدف اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے ایندھن کی تیاری کے مراکز اور توانائی کی سپلائی لائنز تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…