بین الاقوامی

Iranian Deputy Foreign Minister Abbas Araghchi: ایران نے ویتنام جنگ کی مثال دے کر امریکہ کو تنقید کا بنایا نشانہ،‘فتح کے جھوٹے دعوے بند کریں’— ایرانی وزیر خارجہ کی سخت وارننگ

نئی دہلی :ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ویتنام جنگ کی مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کسی حد تک ویتنام جنگ سے ملتی جلتی ہے، جہاں امریکہ مسلسل فتح کے دعوے کرتا رہا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ایرانی وزیر خارجہ نے خاص طور پر “فائیو او کلاک فولیز” کا حوالہ دیا، جو 1960 کی دہائی میں سائگون میں ہونے والی روزانہ پریس بریفنگز تھیں۔ ان بریفنگز میں امریکی حکام جنگ میں کامیابی کا تاثر دیتے تھے، حالانکہ حقیقت میں حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی امریکہ اسی طرح کے دعوے کر رہا ہے کہ وہ جنگ جیت رہا ہے، جب کہ زمینی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکی قیادت نے خوش فہمی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت کے امریکی جنرل ولیم ویسٹمورلینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ فتح قریب ہے، لیکن 1968 میں ہونے والے “ٹیٹ حملے” نے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔ اسی تناظر میں عراقچی نے خبردار کیا کہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔امریکی فوجی طاقت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک جدید جنگی طیارہ F-35 Lightning II کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ امریکی جنگی بحری جہاز جیسے USS Gerald R. Ford اور USS Abraham Lincoln پسپائی اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ محفوظ لینڈنگ کر چکا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔اس معاملے پر امریکی داخلی سیاست میں بھی تنقید بڑھ رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو برتری حاصل ہے اور ایران کا فضائی دفاع کمزور ہو چکا ہے۔

ویتنام جنگ کی مثال دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ نے لاکھوں فوجی تعینات کیے اور شدید بمباری کی، لیکن آخرکار اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس جنگ میں تقریباً 58 ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے جب کہ 20 سے 30 لاکھ ویتنامی جان سے گئے۔ 1975 میں جنگ کے اختتام پر شمالی ویتنام کو فتح حاصل ہوئی۔رپورٹس کے مطابق موجودہ کشیدگی میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ایران میں 1400 سے زائد اموات اور 18 ہزار زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ عباس عراقچی کا پیغام واضح ہے کہ محض فتح کے دعوے کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، اور اگر زمینی حالات مختلف ہوں تو نتائج بھی ویتنام جنگ جیسے ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago