بین الاقوامی

International Monetary Fund: آبنائے ہرمز کی بندش سے2026 میں خلیجی ممالک کی معیشت سکڑنے کا خدشہ، خام تیل 95.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان: آئی ایم ایف

نئی دہلی: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث 2026 میں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے کی معیشت سکڑ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی اکتوبر 2026 کی عالمی اقتصادی منظرنامے سے متعلق رپورٹ کے مطابق، اس خطے کی اقتصادی شرح نمو 2025 کے 3.7 فیصد سے گھٹ کر 2026 میں منفی 0.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔فی الحال 2027 میں معیشت کے دوبارہ سنبھلنے اور 6.3 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق اپریل 2026 کے اندازوں کے مقابلے میں 2026 کے لیے اقتصادی شرح نمو کے تخمینے میں 2.2 فیصد پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی طویل مدت تک بندش کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کے دوبارہ کھلنے کے بعد 2027 میں خطے کی معیشت میں نسبتاً تیز بحالی ممکن ہے۔

کویت، عراق اور قطر کی معیشتوں پر سب سے زیادہ اثر پڑنے کا خدشہ

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، خلیجی خطے کے چھوٹے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اس بحران کا سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 2026 میں کویت کی معیشت 16.7 فیصد، عراق کی 16 فیصد، قطر کی 15.6 فیصد اور بحرین کی 11.3 فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی پیداوار اور اس کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث ان ممالک کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ 2027 میں ان ممالک کی معیشتوں میں تیز بحالی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق، عراق کی معیشت 19 فیصد، قطر کی 18.8 فیصد، کویت کی 17.1 فیصد اور بحرین کی 13.9 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر کیا اثر پڑے گا؟

آئی ایم ایف کے مطابق، سعودی عرب پر بحران کا اثر دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم رہ سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستے موجود ہیں۔رپورٹ میں سعودی عرب کی معیشت 2026 میں 3.3 فیصد سکڑنے اور 2027 میں 7.9 فیصد کی شرح سے بڑھنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ وہیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی معیشت 2026 میں 3.9 فیصد سکڑ سکتی ہے، جب کہ 2027 میں اس کی شرح نمو 7.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔عمان اس رجحان سے مختلف رہ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، عمان کی معیشت 2026 میں بھی 4.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے۔

ایران کی معیشت 7.6 فیصد سکڑنے اور مہنگائی 78.6 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ

آئی ایم ایف نے ایران کی اقتصادی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2026 میں ایران کی معیشت 7.6 فیصد سکڑ سکتی ہے۔ فوجی کشیدگی میں اضافے، بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے اور سخت پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں ایران کی مہنگائی کی شرح 78.6 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے عام شہریوں کی قوت خرید اور ملک کی مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آئی ایم ایف کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی فراہمی کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اسی راستے سے گزرتا تھا، جو عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق، خلیجی ممالک نے تیل کی کچھ برآمدات کو دوسرے بندرگاہی راستوں کی جانب منتقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی خطے سے باہر تیل کی پیداوار میں بھی روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔

خام تیل کی قیمت 95.74 ڈالر فی بیرل رہنے کا اندازہ

آئی ایم ایف نے2026 میں خام تیل کی اوسط قیمت 95.74 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جو2025 کی اوسط قیمت 67.74 ڈالر فی بیرل سے کافی زیادہ ہے۔ تاہم، 2027 میں خام تیل کی قیمت گھٹ کر 87.39 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق2026 میں خام تیل کی قیمتوں میں41 فیصد اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں 48 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دیگر شعبوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف نے کھاد کی قیمتوں میں 10 فیصد اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا ہے۔

توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر زیادہ دباؤ

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک کو اس بحران کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خام تیل اور گیس کی مہنگی درآمدات سے ان کے درآمدی اخراجات بڑھیں گے، جب کہ کرنسی کی قدر، حقیقی آمدنی اور سرکاری مالی وسائل پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ایسے ممالک کے لیے توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ان کے پاس عوام کو راحت دینے یا اضافی اخراجات برداشت کرنے کے لیے محدود مالی وسائل ہوں۔

ہندوستان کی معیشت نسبتاً مستحکم

آئی ایم ایف کے مطابق، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ہندوستان کی معیشت نسبتاً بہتر صورت حال میں ہے۔ مضبوط گھریلو مانگ اور خدمات کے شعبے سے ملنے والی مدد ہندوستانی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔رپورٹ میں ہندوستان کو ان توانائی درآمد کرنے والی ابھرتی معیشتوں سے الگ رکھا گیا ہے، جن کی اقتصادی شرح نمو کے تخمینے کم کیے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی بحران کے باوجود ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو اندرونی مانگ اور خدمات کے شعبے سے مدد مل رہی ہے۔آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی میں اضافہ، اقتصادی ترقی میں سستی اور مالیاتی توازن پر مزید دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Dipke on detention of Ranka and Sourav: ’’جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے…‘‘، رانکا-سورو داس کی حراست پر ابھیجیت دیپکے کا ردعمل

ابھیجیت دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور…

53 minutes ago

Two more FIRs registered regarding the INDIA bloc: انڈیا اتحاد کے احتجاج پر دو مزید ایف آئی آر در، جانئے کن لیڈروں کے نام ہیں شامل؟

ووٹ چوری کے الزامات اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے…

1 hour ago

Samajwadi Party Navratri Poster: نَوراتری پرسماج وادی پارٹی کے دفتر کے باہر لگا خاص پوسٹر، خواتین ووٹروں پر خاص توجہ

پوسٹر میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران خواتین کی سلامتی کے لیے شروع…

4 hours ago