واشنگٹن: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے دیگر ممالک سے فوجی تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ بنایا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ اس معاملے پر سات مختلف ممالک کے لیڈروں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی اہم ممالک سے درخواست کی کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھا جا سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک نے ان کی اپیل کو نظر انداز کیا تو مستقبل میں نیٹو اتحاد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی بہت کم مقدار حاصل ہوتی ہے، جبکہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق چین کی تقریباً 90 فیصد تیل سپلائی اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے تو اب دیگر ممالک کو بھی عالمی مفاد میں آگے آ کر اس راستے کی سیکیورٹی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔ اس سے قبل امریکہ نے خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی مدد کی درخواست کی تھی، لیکن ان ممالک نے محتاط اور دفاعی پالیسی اختیار کرتے ہوئے براہ راست مداخلت سے گریز کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے تقریباً دو ہفتے قبل برطانیہ کے وزیر اعظم سے اس مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت برطانیہ اپنا طیارہ بردار بحری جہاز اس علاقے میں بھیجنے کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی میں برتری حاصل کر لی، اس کے بعد برطانیہ کی جانب سے تعاون کی پیشکش سامنے آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس بات کو یاد رکھے گا کہ مشکل وقت میں کون اس کے ساتھ کھڑا رہا اور کس نے فاصلہ اختیار کیا۔
امریکی صدر نے نیٹو کے رکن ممالک سے بھی اس معاملے میں عملی تعاون کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کا کام اتنا مشکل نہیں جتنا یوکرین کی مدد کرنا تھا، کیونکہ ایران اب پہلے جیسی فوجی طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب محدود تعداد میں میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں اور امریکہ نے اس کی جدید ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے کئی اہم فوجی اور تیل کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جن میں خارگ جزیرہ بھی شامل ہے، جو ایران کے بڑے آئل ڈپو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے، تاہم ابھی وہ باضابطہ طور پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…