نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر مسلسل میزائل حملوں کے بعد شمالی اسرائیل میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کرنے سمیت ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اتوار کی رات تک اسرائیل کی جانب چار مرحلوں میں میزائل داغے، جس کے باعث شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی، تاہم سیکیورٹی اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کی کارروائی کو “بہت بڑی غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ ایال ضمیر مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ اقدامات سے متعلق منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے پورے ملک میں سیکیورٹی پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ کھلے مقامات پر 200 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ بند ہالوں میں ہونے والی تقریبات میں زیادہ سے زیادہ 500 افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی، وہ بھی اس شرط پر کہ وہاں محفوظ پناہ گاہ موجود ہو۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادارے اور ساحلی علاقے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنکروں اور محفوظ کمروں کے قریب رہیں کیونکہ مزید میزائل حملوں کا خدشہ برقرار ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقوں میں حملے تیز کرتا ہے یا ایران کی کارروائی کا جواب دیتا ہے تو اسے مزید سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل نے اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ ادھر اردن نے بھی تصدیق کی ہے کہ متعدد میزائل اس کی فضائی حدود سے گزرے۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر عراق نے اپنی فضائی حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ شام نے جنوبی فضائی راستے 12 گھنٹوں کے لیے معطل کر کے دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔ ایران نے بھی اپنے مغربی فضائی علاقے کو اگلے حکم تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ اور یمن کے حوثی گروپ نے بھی ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے علاقائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…