بین الاقوامی

Iran War: ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں

نئی دہلی :َ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کے موجودہ صدارتی دور کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رائٹرز/اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جب کہ 64 فیصد نے ان کی کارکردگی کو ناپسند کیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 35 فیصد تھی، یعنی حالیہ دنوں میں ان کی مقبولیت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔سروے کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بڑی سیاسی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ 80 فیصد امریکی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے، جبکہ صرف 16 فیصد افراد کا خیال ہے کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ صرف 20 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف جنگ کو درست فیصلہ قرار دیتے ہیں۔

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران جنگ اور معیشت کے معاملات ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔ سروے میں معیشت سنبھالنے کے معاملے میں 38 فیصد افراد نے ڈیموکریٹک پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کو بہتر قرار دیا۔ٹرمپ نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے اور امریکہ کو طویل جنگوں سے دور رکھنے کے وعدے کیے تھے۔ ابتدائی طور پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گا۔ تاہم ایران کی جانب سے مضبوط مزاحمت کے باعث صورتحال توقع کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکی۔ اگرچہ کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت اب بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی توانائی منڈی اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

رائٹرز/اِپسوس کا یہ آن لائن سروے پورے امریکہ سے 1,166 بالغ افراد کی رائے پر مبنی ہے۔ سروے میں دونوں سمتوں میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کی غلطی کا امکان بتایا گیا ہے۔دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں اور تہران سے مسلسل رعایتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے 14 اگست کو کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا اقدام ایران کو شکست دینے کے بعد کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے ایران کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر تہران کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ کو اپنی خارجہ پالیسی، معیشت اور انتخابی وعدوں پر بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا سامنا ہے۔ وسط مدتی انتخابات سے قبل مقبولیت میں یہ کمی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی ایک اہم سیاسی خطرے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mann Ki Baat: عام شہریوں کی کوششوں اور خدمات کو سمجھنے اور ان کا اعتراف کرنے کا سفر، ’من کی بات‘ میرے لیے تیرتھ یاترا سے کم نہیں: وزیراعظم مودی

پروگرام کے دوران وزیراعظم نے پنجاب کے مالوہ علاقے میں روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ…

8 minutes ago

Jaanta Raja’ In Ghaziabad: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے سمیت اہم شخصیات غازی آباد میں ’جانتا راجا‘ پروگرام ہوں گے شریک

یہ پروگرام ہریدوار کی تنظیم دویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جا…

47 minutes ago

Bihar politics: اپنی پارٹی بنائیں گے اننت سنگھ، جے ڈی یو سے 6 سال کے لیے نکالے جانے کے بعد بڑا اعلان، بہار کی سیاست میں ہلچل

پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے…

1 hour ago

Strong Earthquake hits Japan: جاپان کے بونین جزائر میں 6.3 شدت کا زلزلہ، زمین کے شدید جھٹکوں سے لرزاٹھا علاقہ

جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک وانواتو میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس…

2 hours ago