نیویارک: بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کو امریکہ میں ایک بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے دونوں کے خلاف جاری تمام فوجداری مقدمات کو ”With Prejudice“ کے ساتھ خارج کر دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان الزامات پر مستقبل میں دوبارہ کبھی مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔ اس فیصلے کو اڈانی گروپ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی عدالت میں سماعت کے دوران سرکاری وکلاء نے خود اعتراف کیا کہ ان کے پاس الزامات ثابت کرنے کے لیے نہ تو کافی شواہد موجود ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی مضبوط امریکی تعلق یا ”US Nexus“ سامنے آیا ہے جس کی بنیاد پر مقدمہ جاری رکھا جا سکے۔ اس اعتراف کے بعد عدالت نے تمام فوجداری مقدمات کو مستقل طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ مقدمات 2024 کے آخر میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنے تھے جب امریکی ریگولیٹری اداروں نے سیکیورٹیز اور وائر فراڈ سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کے بعد عالمی مالیاتی حلقوں میں اڈانی گروپ کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم تازہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ بحران بڑی حد تک ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق امریکی عدالتی نظام میں کسی فوجداری مقدمے کو ”With Prejudice“ کے ساتھ خارج کیا جانا ایک غیر معمولی قدم سمجھا جاتا ہے۔ ایسا فیصلہ عام طور پر اسی وقت لیا جاتا ہے جب حکومت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ مقدمہ قانونی بنیادوں پر کمزور ہے اور عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اڈانی گروپ کی جانب سے اس مقدمے میں امریکہ کی کئی معروف قانونی فرموں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ ان میں سلیوان اینڈ کروم ویل، نکسن پیبڈی اور ہیکر فنک جیسی بڑی لاء فرمز شامل تھیں۔ ان وکلاء نے امریکی ریگولیٹرز اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اقدامات کو عدالت میں سختی سے چیلنج کیا۔
اڈانی گروپ کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں شامل تمام فریق بھارتی شہری اور بھارتی کمپنیاں ہیں، جبکہ مبینہ لین دین اور سرگرمیاں بھی مکمل طور پر بھارت میں انجام پائی تھیں۔ وکلاء نے یہ دلیل بھی دی کہ جن بانڈز یا مالیاتی دستاویزات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ امریکی اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈ نہیں ہوتے، اس لیے امریکی قوانین کا اطلاق اس معاملے پر نہیں ہوتا۔ قانونی ٹیم نے امریکی حکومت کی کارروائی کو ”Extra-territorial Over-reach“ یعنی دائرۂ اختیار سے تجاوز قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق انہی مضبوط قانونی دلائل کے باعث امریکی حکومت کو آخرکار مقدمات واپس لینے پڑے۔
فوجداری مقدمات کے خاتمے سے قبل اڈانی گروپ نے امریکہ میں جاری بعض سول اور مالیاتی تنازعات کو بھی تصفیے کے ذریعے حل کر لیا تھا۔ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت گوتم اڈانی نے 60 لاکھ ڈالر جبکہ ساگر اڈانی نے ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کیے۔ تاہم اس تصفیے میں دونوں نے کسی بھی غلطی کو نہ تو تسلیم کیا اور نہ ہی اس سے انکار کیا۔ اسی طرح ایران پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی سے متعلق ایل پی جی درآمدات کے ایک معاملے میں اڈانی گروپ نے امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر آف فارن ایسیٹس کنٹرول کے ساتھ بھی سمجھوتہ کیا۔ اس معاملے میں گروپ نے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کیے اور حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد اڈانی گروپ کی عالمی ساکھ کو تقویت ملے گی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…
AFSPA کے تحت یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا حکم، 5 اضلاع کے 13 پولیس تھانوں…
’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…