کینیا کے سابق وزیر اعظم رائلا اوڈنگا۔ (فائل فوٹو: اے این آئی)
سابق کینیائی وزیرِ اعظم رائلا اوڈِنگا نے اڈانی ایئرپورٹ معاہدے کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اے این آئی نے کینیا کے ڈیجیٹل میڈیا ہاؤس NairobiLeo.co.ke کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کینیا کے سابق وزیر اعظم رائلا اوڈِنگا نے، جو او ڈی ایم (اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ) کے رہنما ہیں، جمعہ کے روز کیرین میں ہونے والے تیسرے قومی ایگزیکٹو ریٹریٹ سے خطاب کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاہدے کے ناکام ہونے سے کینیا نے ایک تزویراتی موقع کھو دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوڈِنگا نے سیاسی چالاکیوں کو معاہدے کی ناکامی کی بنیادی وجہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس منسوخ شدہ معاہدے کے اثرات نیروبی پر منفی طور پر مرتب ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ کینیا ایک تزویراتی مقام پر واقع ہے اور انھیں مایوسی ہوئی کہ ملک ایئرپورٹ کے معاہدے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ واضح رہے کہ رائلا اوڈِنگا 2008 سے 2013 تک کینیا کے وزیرِ اعظم رہے ہیں۔
سیاسی مفاد کے لیے کیا گیا معاہد منسوخ
رائلا اوڈِنگا نے کہا ’’مجھے بہت مایوسی ہوئی جب ہم ایئرپورٹ کے معاہدے کو آگے نہیں بڑھا سکے۔ جب انھوں نے اڈانی کو شامل کیا، تو اس کے ساتھ ہی ساری سیاست بھی آ گئی اور معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔ اگر اسے ٹھیک نہ کیا گیا، تو نائیروبی غیر فعال ہو جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ اوڈِنگا ان رہنماؤں میں شامل تھے جنھوں نے معاہدے کی منسوخی سے قبل اڈانی گروپ کا دفاع کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کینیا کے صدر ولیم رُوتو نے پارلیمنٹ میں اپنے ’’اسٹیٹ آف دی نیشن‘‘ خطاب کے دوران اڈانی-جے کے آئی اے توسیعی معاہدے اور اڈانی-کیٹراکو معاہدے کو منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ سال مومباسا میں گفتگو کرتے ہوئے اوڈِنگا نے کہا تھا کہ کینیا کے معاشی چیلنجز کے حل کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری (PPP) کے تحت سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
اڈانی ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے: رائلا اوڈِنگا
انھوں نے کہا تھا کہ ’’اڈانی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ انھوں نے ایسے منصوبوں میں اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے جو مشرقی افریقہ میں دیکھے گئے منصوبوں سے کہیں زیادہ ہیں۔‘‘ کینیائی رہنما نے کہا کہ اڈانی گروپ 2010 سے کینیا میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اس وقت نجی و سرکاری شراکت داری کے لیے مناسب قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی نے اسے روک دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے ان PPP تجاویز سے واقف ہونے کا موقع ملا ہے اور میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں وہ بیان کروں۔ جب میں کینیا کا وزیرِ اعظم تھا، تب مجھے اڈانی گروپ آف کمپنیز اور اس کی سرگرمیوں سے متعارف کرایا گیا تھا۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے؛ اگر کچھ افراد نے غلطی کی ہے، تو وہ اس کا اعتراف کریں لیکن ان کمپنیوں کو نہ بدنام کریں جو جائز تجارتی لین دین میں ملوث ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…