بین الاقوامی

Firing in Iran’s Supreme Court: ایران کی سپریم کورٹ میں فائرنگ، دو جج ہوئے ہلاک، ایک محافظ زخمی

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم کورٹ کی عمارت میں ایک حملہ آور نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم دو جج ہلاک ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص بھی زخمی ہو گیا۔ عدلیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ججوں کی شناخت سپریم کورٹ برانچ 39 کے سربراہ علی رازینی اور برانچ 53 کے سربراہ محمد مقیسہ کے طور پر کی گئی ہے۔

ججوں کا ایک محافظ زخمی

ایران کے سرکاری پریس ٹی وی کے مطابق، عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے کہا، ’’ہفتے کی دوپہر سے قبل ایک شخص بندوق لے کر دو سینئر ججوں کے کمرے میں داخل ہوا اور انہیں شہید کر دیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حملے میں ججوں کا ایک محافظ زخمی ہوا ہے۔

بندوق بردار نے کی خودکشی

ترجمان نے کہا کہ بندوق بردار نے فرار ہوتے ہوئے فوری طور پر خودکشی کر لی اور ہم فی الحال اس کے ارادے کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ دونوں ججوں نے قومی سلامتی، جاسوسی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔

شاندار ریکارڈ کی وجہ سے بنایا گیا نشانہ

جہانگیر نے کہا کہ رازینی اور مقیسہ کو ہمیشہ دشمنوں نے ان کے شاندار ریکارڈ کی وجہ سے نشانہ بنایا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ ایک سال کے دوران، عدلیہ نے جاسوسوں اور باغی گروہوں کی شناخت کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے ہیں، اور اس سے دشمنوں میں غصہ اور ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔‘‘

عدلیہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’’ہم دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے فالو اپ کارروائیوں کے نتائج جلد شائع کرنے کی امید کرتے ہیں۔‘‘

حملہ آور کے خلاف درج نہیں تھا کوئی کسی

عدلیہ کے میڈیا سنٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مجرم کے خلاف سپریم کورٹ میں پہلے سے کوئی کیس نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس کے وزیٹرز میں سے تھا۔‘‘ رپورٹ کے مطابق 71 سالہ رازینی ایران کی عدلیہ میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے اور اس سے قبل 1998 میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر میگنیٹک بم لگا کر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

وہیں، علی خامنہ ای، غلام حسین محسنی اژه‌ای، مسعود پزشکیان، اور محمد باقر غالب نے اپنے تعزیتی پیغامات میں ان دونوں ججوں کی تعریف کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے بعض مخالفین ان دونوں کے قتل پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس قاتلانہ حملے کے بدلے میں کئی سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

China Gold Reserves Reaches 2410 Tons: چین آخر کیا چال چل رہا ہے؟ 23 ماہ سے مسلسل سونا خرید رہا ہے

چین مسلسل 23 ماہ سے سونے کی خریداری کر رہا ہے، جس سے اس کے…

43 minutes ago

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

2 hours ago