بین الاقوامی

Mujibur Rahman Hall to be Renamed Osman Hadi Hall: ڈھاکہ یونیورسٹی میں مجیب الرحمٰن ہال کا بدلے گا نام، اب کہلائے گا ’عثمان ہادی ہال‘

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کرنے کی روایت کا آغاز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی کے حکام نے شیخ مجیب الرحمٰن ہال کا نام بدل کر ’عثمان ہادی ہال‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شریف عثمان ہادی کو گزشتہ ماہ دارالحکومت میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا نے جمعہ کو بتایا کہ سابق صدر مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کے نام سے منسوب شیخ فضیلت النساء ہال کا نام بھی تبدیل کر کے ’کیپٹن ستارہ پروین ہال‘ رکھا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ یونیورسٹی کے سب سے بڑے پالیسی ساز فورم، یعنی سینڈیکیٹ، کے جمعرات کے روز منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر نیاز احمد خان نے کی۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون سے جمعرات کی رات گفتگو کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے پراکٹر سیف الدین احمد نے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا، “حتمی فیصلہ سینیٹ کرے گی؛ سینڈیکیٹ نے نام کی تبدیلی کی تجویز سینیٹ کو بھیج دی ہے۔ سینڈیکیٹ آخری فیصلہ نہیں کرتا ہے۔ عمل آگے بڑھ رہا ہے—ایک مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔”

یہ اقدام پاکستان کے خلاف 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ سے وابستہ مجسموں اور تاریخی ورثے پر بڑھتے حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس سے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے تحت تاریخی ورثے کے مسلسل خاتمے پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

اصل تختی ہٹا کر’عثمان ہادی ہال‘ کی تختی نصب

مقامی میڈیا کے مطابق، 18 دسمبر کو ہادی کی موت کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب الرحمٰن ہال کی یونین نے اصل تختی ہٹا کر اس کی جگہ ’عثمان ہادی ہال‘ کی تختی نصب کر دی تھی۔ اس کے علاوہ کئی طلبہ نے ہال کی مرکزی عمارت پر نصب مجیب الرحمٰن کے خصوصی دیوار گیر نقش (میورل) پر بھی رنگ پھیر دیا تھا۔ ہادی کی موت کے بعد اس کے حامیوں نے پورے بنگلہ دیش میں اقلیتوں، بھارتی ہائی کمیشن کے دفتر، ثقافتی اداروں اور میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بناتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کر دی تھی۔

چار اساتذہ کے خلاف بھی شروع کی گئی کارروائی

ادھر، جمعرات کے روز ڈھاکہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے عوامی لیگ کے حامی اساتذہ کے ’بلو پینل‘ سے وابستہ چار اساتذہ کے خلاف بھی کارروائی شروع کی اور انہیں برطرف کرنے کے لیے الزامات عائد کیے۔ ساتھ ہی انہیں ایک ہفتے کے اندر وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت دی گئی۔

چار اساتذہ کے خلاف برطرفی کے لیے الزامات طے

ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق سیف الدین احمد نے کہا، “ان کے خلاف الزامات طے کر دیے گئے ہیں اور ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ الزامات کیوں عائد کیے گئے اور انہیں ملازمت سے کیوں نہ برطرف کیا جائے۔ وہ وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دیں گے، جس کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھے گی۔ انہیں فی الحال برطرف نہیں کیا گیا ہے، مگر برطرفی کے لیے الزامات طے ہو چکے ہیں۔”

ڈھاکہ یونیورسٹی کے تین اساتذہ کو کیا گیا ہراساں

گزشتہ ماہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے تین اساتذہ، جو عوامی لیگ کے حامی ٹیچرز پینل سے وابستہ تھے، کو مبینہ طور پر ڈھاکہ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو سی ایس یو) کی قیادت والے طلبہ کے ایک گروپ نے ہراساں کیا اور ان پر حملہ کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں حملوں کے متعلق بڑھی خدشات

بنگلہ دیش میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے تحت قانون و نظم کی صورتِ حال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ کام کے غیر محفوظ حالات، سیاسی مداخلت، تعلیمی آزادی پر روک اور اختلافِ رائے رکھنے والوں پر حملوں کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Impeachment Notice Against CEC: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس: کیا ہے معاملہ؟

اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…

17 minutes ago

Pandit Deendayal Upadhyaya: ’انتودیہ اور ایکاتم مانوواد…‘ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا کہا؟

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…

1 hour ago