نیپال کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی آفات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گورکھا ضلع میں اتوار کی صبح بوڑھی گنڈک ندی میں اچانک آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ندی کے تیز بہاؤ میں 35 سے زیادہ مکانات اور کئی پل بہہ گئے، جبکہ کم از کم 10 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پانی کا بہاؤ رک گیا تھا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بالائی پہاڑی علاقوں میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چونچوبری سیاری ندی کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ایک مقام پر بڑی مقدار میں پانی جمع ہو گیا۔ جب یہ قدرتی رکاوٹ ٹوٹی تو پانی اچانک تیز بہاؤ کے ساتھ نشیبی علاقوں کی طرف بڑھ گیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اس سیلاب کی زد میں 341 میگاواٹ کا بوڑھی گنڈک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بھی آ گیا۔ اس کے زیر تعمیر کیمپ اور کئی مشینیں پانی میں بہہ گئیں۔ انتظامیہ نے ندی کے کنارے آباد سردی باس، دھارچے، کھورلابیسی، ماچھا کھولا، سوتی اور آروگھاٹ جیسے علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیر داخلہ کی ہدایت پر راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
بہار اور اتر پردیش کے لیے ایڈوائزری جاری
نیپال میں آنے والے اس اچانک سیلاب کے اثرات ہندوستان کی پڑوسی ریاستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر مرکزی آبی کمیشن (CWC) نے اتوار، 11 اکتوبر 2026 کو خصوصی احتیاط برتنے کے لیے ایڈوائزری جاری کی۔ کمیشن کے مطابق، بوڑھی گنڈک ندی کا پانی آگے چل کر تریشولی اور نارائنی، یعنی گنڈک ندی کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے۔
नेपाल की बूढ़ी गंडकी नदी में फिर से बाढ़ आई है। पानी का फ्लो देखिए, एकदम भयावाह है। 20 से ज्यादा घर बाढ़ में बह गए हैं। सरकार ने अलर्ट जारी करते हुए लोगों से ऊंचे स्थानों पर जाने के लिए कहा है। https://t.co/kDJnFLhb1v
— Shyamdatt (@ShyamDatt_C) October 11, 2026
تاہم، کمیشن کے ابتدائی جائزے میں ہندوستان میں سیلاب کے اثرات معمولی رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود گنڈک بیراج میں پانی کی آمد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کے پیش نظر مغربی چمپارن، گوپال گنج اور اتر پردیش کی سرحد سے متصل نشیبی علاقوں کی انتظامیہ کو ندی کی آبی سطح پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ہندوستان میں احتیاط برتنا ضروری
نیپال میں آنے والے اس شدید سیلاب نے ایک بار پھر پہاڑی علاقوں کی جغرافیائی حساسیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں اس کے اثرات کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، لیکن احتیاط کے طور پر انتظامیہ اور مقامی لوگوں کو پوری طرح چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ندی کے پانی کی سطح میں ممکنہ تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنا اور خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بروقت خبردار کرنا اہم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بادلوں کی آمد و رفت اور تیز ہواؤں سے گرمی اور حبس میں کمی، 15…
دہلی سے چنئی جانے والی انڈیگو فلائٹ 6E6115 میں ایک مسافر کے پاور بینک سے…
کمپنی کا مقصد ہندوستان میں تانبے کی پیداوار بڑھانا، 115 میگاواٹ قابل تجدید توانائی شامل…
ہندوستان کے باصلاحیت کرکٹر رنکو سنگھ اپنی جارحانہ بلے بازی اور آخری اوورز میں بڑے…
پتی پتنی اور پنگا‘ کے دوسرے سیزن میں راہل ویدیا اور دیشا پرمار، ارجن بجلانی…
امیتابھ بچن نے 1984 میں راجیو گاندھی کی حمایت میں الٰہ آباد سے لوک سبھا…