چین کے کئی بڑے شہروں میں عوامی مقامات پر ایک منفرد تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ فلمی ستاروں اور تفریحی دنیا کی مشہور شخصیات کے اشتہارات کی جگہ اب ملک کے نامور سائنس دانوں کے پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد بچوں اور نوجوانوں کو سائنس، تحقیق اور نئی ایجادات کی جانب راغب کرنا اور انہیں سائنس دانوں کو اپنا رول ماڈل بنانے کی ترغیب دینا ہے۔ اگست 2026 میں صوبہ شان ڈونگ سے شروع ہونے والی اس مہم کے تحت چین کے معروف سائنس دانوں کی زندگی، ان کی جدوجہد اور اہم کامیابیوں کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ ان میں راکٹ اور خلائی پروگرام کے ماہر چیان شوئسن، جوہری سائنس دان ڈینگ جیاشیان، زرعی سائنس دان یوآن لونگ پنگ اور نوبیل انعام یافتہ خاتون سائنس دان تو یو یو جیسی شخصیات شامل ہیں۔
فلمی ستاروں کے اشتہارات کی جگہ سائنس دانوں کو اہمیت
چین کے مختلف شہروں میں اشتہارات کے لیے استعمال ہونے والی بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر اب سائنس دانوں کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں۔ میٹرو اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور شاپنگ مالز جیسے عوامی مقامات پر ہونے والی اس تبدیلی کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان شخصیات کی جانب مبذول کرائی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنی تحقیق اور ایجادات سے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس مہم میں سائنس دانوں کی تصاویر کے ساتھ ان کی نمایاں کامیابیوں کو بھی پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ نئی نسل کو یہ سمجھنے کا موقع ملے کہ سائنسی تحقیق کس طرح ملک کی ترقی اور انسانی فلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگست 2026 میں شان ڈونگ سے شروع ہوئی مہم
اس منفرد مہم کی شروعات اگست 2026 میں چین کے صوبے شان ڈونگ کے شہر ہیزے اور زیبو کے شاپنگ مراکز سے ہوئی۔ ان مراکز نے رضاکارانہ طور پر اشتہارات کے لیے مختص اہم مقامات کو سائنس دانوں کے تعارف اور ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں یہ پہل ژینگ ژو، ہانگ ژو، چونگ چنگ اور جینان جیسے بڑے شہروں تک پھیل گئی۔ اس مہم کے ذریعے عوامی مقامات پر سائنس اور تحقیق سے وابستہ شخصیات کو زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چین کے وہ سائنس دان جن کی تصاویر نمایاں کی جا رہی ہیں
اس مہم میں کئی ایسی شخصیات کی کامیابیوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جنہوں نے سائنس کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
چیان شوئسن: انہیں چین کے راکٹ اور خلائی پروگرام کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق نے چین کی خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈینگ جیاشیان: چین کے ممتاز جوہری سائنس دانوں میں شامل تھے۔ انہوں نے ملک کے جوہری تحقیقاتی پروگرام میں اہم خدمات انجام دیں۔
یوآن لونگ پنگ: انہیں ہائبرڈ چاول کی ترقی کے لیے عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تحقیق نے زرعی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔
تو یو یو: چین کی معروف خاتون سائنس دان ہیں، جنہیں ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا آرٹیمیسینن کی دریافت کے لیے 2015 میں نوبیل انعام برائے طب سے نوازا گیا تھا۔ ان کی تحقیق نے دنیا بھر میں ملیریا کے علاج میں اہم پیش رفت کی۔
بچوں کے رول ماڈل بدلنے کی کوشش
اس مہم کا ایک اہم مقصد بچوں اور نوجوانوں کے سامنے کامیابی کی نئی مثالیں پیش کرنا ہے۔ سائنس دانوں کی زندگی اور ان کی کامیابیوں کو عوامی مقامات پر نمایاں کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ علم، تحقیق اور ایجادات کے ذریعے بھی معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پوسٹروں میں سائنس دانوں کے نام اور ان کی کامیابیوں کے ساتھ ان کی خدمات کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح بچوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سائنسی تحقیق نہ صرف انسانی جانیں بچاتی ہے بلکہ معاشرے کی ترقی اور مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چین کی اس پہل کو نئی نسل میں سائنسی دلچسپی بڑھانے اور تحقیق کے شعبے میں کیریئر بنانے کی ترغیب دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق…
ناگویا: ہندوستان کے پیرا اولمپک اور عالمی چیمپئن سمیت انتل نے ایک اور بڑی کامیابی…
یو اے ای کے صدر کے دیوان میں ترقیاتی امور اور شہید ہیروز کے معاملات…
چنڈی گڑھ میں سات روزہ شریمد بھاگوت کتھا کا اختتام، بی پراک اور اندریش مہاراج…
چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس میں ٹیکنالوجی اور روحانیت کا انوکھا امتزاج، وزیر اعظم نے…
بجلی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، آپریشنل صلاحیت 20.8 گیگاواٹ تک پہنچی، بیٹری اسٹوریج…