واشنگٹن: غزہ میں جنگ کے بعد امن و بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے عالمی ”بورڈ آف پیس“ کی پہلی اہم میٹنگ امریکہ میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک نے مالی امداد، سیکیورٹی تعاون اور امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بڑے اعلانات کیے۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی، جنہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ امریکی امداد کا بڑا حصہ غزہ میں تباہ شدہ رہائشی علاقوں کی بحالی، کمیونٹی سینٹرز کی تعمیر اور بنیادی شہری سہولیات کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عالمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بھی خصوصی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں طویل مدتی معاشی استحکام قائم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کے علاوہ نو مسلم ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ امداد فراہم کرنے والے ممالک میں قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔ تاہم ابتدائی مرحلے میں ان فنڈز کے استعمال کی تفصیلات مکمل طور پر واضح نہیں کی گئیں۔ بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کیے گئے ترقیاتی منصوبے کے مطابق غزہ کی مکمل تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ منصوبے میں جدید سڑکوں کی تعمیر، بجلی و پانی کے نظام کی بحالی، طبی و تعلیمی اداروں کا قیام اور ایک بین الاقوامی بندرگاہ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد خطے میں جمہوری انتخابات کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے کئی ممالک نے امن فوج بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا نے تقریباً آٹھ ہزار امن فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیہ نے بھی مشترکہ طور پر فوجی دستے بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 20 ہزار امن اہلکار غزہ میں تعینات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن فوج کی تربیت اور سیکیورٹی ہم آہنگی کی ذمہ داری مصر کو سونپی جائے گی۔ امن دستوں کا بنیادی مقصد مقامی امن و امان برقرار رکھنا، شہری تحفظ یقینی بنانا اور مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق مستقبل میں پاکستان بھی حالات کا جائزہ لینے کے بعد امن مشن میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے۔ اگرچہ منصوبے کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اس مجوزہ امن مشن اور سیکیورٹی انتظامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار علاقائی تعاون اور سیاسی استحکام پر ہوگا، جو غزہ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…